ملک بھر کی سٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر لایا جائے: سینٹ قائمہ کمیٹی کی سفارش

اسلام آباد(ثناء نیوز+ آن لائن) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی نے رائے ونڈ میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے کیمپ آفسز و ہائوسز کو دو فیڈرز سے بجلی کی فراہمی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ لیسکو حکام نے اجلاس کی کارروائی کے دوران تصدیق کی تھی کہ رائیونڈ میں دو فیڈرز سے بجلی فراہم ہو رہی ہے قائمہ کمیٹی نے فلڈ کمیشن سے چاروں صوبوں میں حفاظتی بندوں کے تحفظ کے لئے اٹھنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات کی تفصیلات بھی دو ہفتوں میں طلب کر لی ہیں۔کمیٹی نے وزیر اعلیٰ خیبر پی کے کو صوبے میں بجلی کی پیداواری قیمت کے مطابق بجلی کے نرخوں کے تعین سے متعلق مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے لئے وفاق سے رابطہ کرنے کی سفارش کی ہے فلڈ کمیشن کے حکام کو چاروں صوبوں کے فوری طور پر دوروں کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جون جولائی میں لوڈ شیڈنگ میں کمی کے لئے وفاقی حکومت کو بجلی کی پیداوار کے لئے اضافی فنڈز دینے کی سفارش کی گئی۔ اسلام آباد میں نئے میٹرز کے لئے درخواست گزاروں سے 25،25 ہزار روپے کی رشوت طلب کرنے کی عوامی شکایات کی سیکرٹری پانی و بجلی کو ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے اعلیٰ سطح پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے کمیٹی نے ٹائم فریم کے مطابق ڈیرہ غازی خان ،لورالائی ٹرانسمیشن لائن مکمل نہ ہونے کی بھی ایک ہفتے میں تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ بجلی کے حوالے سے گردشی قرضہ 170 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے کمیٹی نے وفاقی اور بلوچستان کی حکومتوں کو 30 مئی تک صوبے میں زرعی ٹیوب ویلز کے حوالے سے 80 ارب روپے کی سبسڈی کے واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں ریڈ زون میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی ہے پیر کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر زاہد خان کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ چیف انجینئر لیسکو نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ٹی ایم اے لاہوردو ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہے سٹریٹ لائنس بند کی گئی تھیں مگر کچھ نہیں ہوا کمیٹی کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ رائے ونڈ میں وزیراعظم ہائوس اور وزیر اعلیٰ ہائوس کو دو فیڈرز سے بجلی فراہم کی جاری ہے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جنریٹرز بھی رکھے گئے ہیں سینیٹر زاہد خان نے دو فیڈرز سے کسی گھر کو بجلی فراہمی کو غیر قانونی قرار دیا اورکہا کہ اس طرح کیسے لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد قائم ہو گا۔ کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ سی ڈی اے بجلی کے حوالے سے دو ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہے۔ قائمہ کمیٹی نے ملک بھر میں سٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر لانے کی سفارش کی ہے اور تمام صوبوں میں لوڈشیڈنگ‘ بجلی کی پیداوار اور ضرورت‘ سرکلر ڈیٹ اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے اعدادو شمارطلب کر لئے ہیں۔ کمیٹی نے سابقہ اجلاس میں سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی کی جانب سے یکم اپریل تک لورالائی اور ڈیرہ غازی خان میں فیڈرز تنصیب کے منصوبوں کی یقین دہانی کی باوجود مکمل نہ ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو تحقیقات کرکے ذمہ داران کا تعین کرکے آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی‘ کمیٹی نے فیول ایڈجسٹمنٹ اور وصولیوں کی حوالے سے صوبہ خیبر پی کے کے وزیراعلی کو تحریری درخواست کرکے معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں حل کرنے کی بھی سفارش کردی۔ سینیٹر زاہد خان کا کہنا تھا کہ وزارت پانی و بجلی نے ہمیشہ غلط اعدادو شمار پیش کئے ہیں۔ اگر صرف ملک میں 3 ہزار میگاواٹ بجلی کا شارٹ فال ہے تو بارہ بارہ گھنٹے کیسے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے بجلی بلوں کی وصولیاں نہ کرنے پر چیف ایگزیکٹو آئیسکو کو غیر ذمہ دار افسر قرار دیتے ہوئے مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ دبنگ وزیراعلی شہباز شریف اب بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ لگائیں۔ اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ بجلی بلوں کی مد میں پشاور ہائیکورٹ کے ذمے دو کروڑ دس لاکھ اور خیبر پی کے کے حکومتی اداروں کے ذمے ایک ارب روپے کے واجبات ہیں۔ بجلی کی مد میں وفاقی حکومت کے ذمہ باون کروڑ چالیس لاکھ جبکہ پنجاب حکومت نے چار سے پانچ ارب ادا کرنے ہیں۔ آئیسکو حکام نے بتایا کہ الیکٹرک سپلائی کمپنی نے نادہندگان سے اکسٹھ کروڑ نوے لاکھ وصول کئے ہیں جبکہ سی ڈی اے نے اب بھی ایک ارب اسی کروڑ ادا کرنا ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ آئیسکواور لیسکو نے رائے ونڈ ہائوس لاہور کے علاوہ وزیر اعظم ہائوس و سیکرٹریٹ، ڈپلومیٹک انکلیو، پاک سیکرٹریٹ، منسٹرز کالونی، پارلیمنٹ ہائوس، پنجاب ہائوس، سندھ ہائوس، سپریم کورٹ، میریٹ ہوٹل، سرینا ہوٹل سمیت اسلام آباد ریڈ زون میں موجود دیگر عمارات کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دے رکھا ہے۔ وزیر مملکت عابد شیر علی نے قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں سیکرٹری پانی و بجلی سیف اللہ چٹھہ کی عدم شرکت پر معافی مانگ لی۔