عوامی تحریک اور تحریک انصاف کا سیاسی اتحاد‘ امکانات معدوم ہوگئے

عوامی تحریک اور تحریک انصاف کا سیاسی اتحاد‘ امکانات معدوم ہوگئے

راولپنڈی (سلطان سکندر) معلوم ہوا ہے کہ 11مئی کے احتجاجی پروگرام کے حوالے سے پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اشتراک عمل کے لئے سلسلہ جنباتی میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں جماعتوں پر مشتمل کسی نئے سیاسی اتحاد کے قیام کے امکانات سردست معدوم ہوگئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق 11مئی کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے میں تعاون  اور شرکت کی صورت میں پورے ملک میں عوامی تحریک کی احتجاجی ریلیوں میں شریک ہونے کے بارے میں تحریک انصاف کی پیکش ’’پیٹ‘‘ کی قیادت نے یہ کہہ کر مسترد کردی ہے کہ پی ٹی آئی ایک محدود ہدف یعنی قومی اسمبلی کی صرف چار نشستوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ منوانے کے لئے احتجاجی دھرنا دے گی جبکہ عوامی تحریک موجودہ فرسودہ انتخابی سمیت سارے کرپٹ نظام کو تبدیل کرکے ملک میں حقیقی  عوامی جمہوریت لانا چاہتی ہے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان مشترکہ ریلیوں کے انعقاد کے لئے بات چیت ناکام رہی اور ڈاکٹر طاہر القادری نے استدلال کیا تھا کہ متفقہ ایجنڈے پر اتفاق رائے کے بغیر مشترکہ ریلیوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ذرائع کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی خیبر پی کے  سے آئندہ سینٹ الیکشن میں خاطر خواہ نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے اور وہ صوبائی حکومت اور جماعت اسلامی کے ساتھ اشتراک عمل کی قربانی نہیں دے سکتی اس لئے موجودہ انتخابی اور ملکی نظام کو یکسر مسترد کرنے کے ایجنڈے کے بغیر ’’پیٹ‘‘ اور پی ٹی آئی کے درمیان اعتماد و تعاون کا امکان موجود نہیں۔