ججز سینارٹی کیس: مسلمہ روایت آئین کا حصہ بن جاتی ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت) ہائی کورٹ کے ججز کی سنیارٹی سے متعلق مقدمہ کی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی معاملے میں آئین وقانون میں کوئی کمی ہوتو اسے کنونشن پورا کرتا ہے سندھ ہائیکورٹ قرار دے چکی ہے کہ سنیارٹی کا اطلاق مستقلی کی تاریخ سے ہوگامستقلی نئی تقرری نہیں،ججز کی مستقل تقرری میں تسلسل موجود ہے جبکہ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اگر دس ججز میں سے پانچ ایک سال بعد اور پانچ دوسرے سال مستقل ہوئے تو ججز کی سنیارٹی کہاں گئی؟جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا کہ اگر ایک ایڈیشنل جج کو جب صدر مستقل کرے گا تو وہ اس کی سنیارٹی ڈیٹ ہوگی اس کا مطلب سنیارٹی صدر کے ہاتھ میں ہے؟کیس کی مزید سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی گئی ہے۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ پینشن کیس میں ایڈیشنل اور مستقل جج میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا کیا موجودہ سنیارٹی کمیٹی کی کمپوزیشن آئین کی خلاف ورزی ہے؟ جبکہ وہ فاضل عدالت کے فیصلوں کے خلاف بھی ہے۔ سنیارٹی مستقلی سے لی جائے جو عمر کے مطابق ہو۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ آرٹیکل 197,193 کہتا ہے کہ تعیناتی اس کے مطابق ہوگی جس میں ایڈیشنل اور مستقل میں کوئی فرق نہیں جبکہ آرٹیکل 175-Aبھی کوئی تفریق نہیں رکھتا اگر جج کی حلف کی تاریخ سے سنیارٹی لینی ہو تو حلف تو ایڈیشنل جج کی حیثیت سے بھی اٹھایا گیا ہے مستقلی کی کوئی مضبوط وجہ ہونی چاہئے وگرنہ سب برابر ہیں۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ ایڈیشنل جج کی ملازمت میں تسلسل ہے اپنے موقف میں کوئی کنونشن (مجلس مشاورت کا فیصلہ) دکھائیں وگرنہ کنونشن ہی چلے گا عدالت قرار دے چکی ہے مسلمہ روایت آئین کا حصہ بن جاتی ہے آئین کی کمی کو یہی پورا کرے گی۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 861 کے تحت گورنر جنرل ہی ہائی کورٹ کے جج کو تعنیات اور نکال سکتا ہے اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ کوئی فرد ہائی کورٹ میں عارضی طور پراس وقت تک لگایا جاسکتا ہے جب تک کہ کو ئی مستقل جج تعنیات نہیں ہوجاتا اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔ جسٹس آصف  نے کہا کہ آرٹیکل 209کے علاوہ کسی جج کو نہیں ہٹایا جاسکتا یہ صدر کے اختیار سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک جج کسی بنچ میں سنیئر ہو اور کسی دوسرے بنچ میں جونیئر ہو تو اس سے بہت سی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہوں گی ایسا ہی کچھ جسٹس ناصرالملک کی تعنیاتی میں ہوا ہے، جسٹس ناصرالملک نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ کیا مستقل جج کی حیثیت سے حلف اٹھانے پر جج کی دوبارہ انٹری ہو۔