بجٹ سیلز ٹیکس کی شرح17 فیصد برقرار، الیکٹرونکس، کاسمیٹکس پر ڈیوٹی میں اضافے کا امکان

اسلام آباد (آن لائن) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد برقرار رکھنے‘ انکم ٹیکس کی شرح میں معمولی ردوبدل جبکہ برآمد صنعت و دیگر مقاصد کیلئے درجنوں اشیا پر ٹیکس کے خاتمے‘ سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی ایک روپیہ فلٹر کے حساب سے بڑھانے سمیت الیکٹرانکس اور کاسمیٹکس ودیگر پرتعیش اشیا پر ڈیوٹی میں اضافے اور کار ساز کمپنیوں کیلئے سپیئر پارٹس کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے۔نجی ٹی وی کا  وزارت خزانہ کے ذرائع  کے حوالے سے کہنا ہے کہ  وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے بعض اہم فیصلے کئے گئے۔  ان کے مطابق آئندہ مالی سال  کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کی موجودہ 17فیصد کی شرح کو ہی برقرار رکھا جائے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں ہوگی البتہ انکم ٹیکس کے بعض سلیب میں انکم ٹیکس شرح میں ردوبدل ضرور ہوگا تاہم اس میں کم آمدنی والے سفید پوش طبقے کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچے گا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں برآمدی صنعت اور دیگر مقاصد کیلیے ٹیکس چھوٹ دینے والے ایس آر اوز پر نظرثانی کرنے والی کمیٹی کی سفارشات کے نتیجے میں درجنوں اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی جائیگی جس میں برآمدی صنعت کیلیے منگوائی گئی کاریں اور دفتری اشیا (ٹی وی ریفریجریٹر‘ فوٹو سٹیٹ مشین‘ کمپیوٹر‘ پرنٹرز وغیرہ) شامل ہیں۔ علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سگریٹ پر ایک روپے فلٹر کے حساب سے ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائیگا جبکہ درآمد مقامی سطح پر تیار ہونے والی الیکٹرانک مصنوعات ٹی وی‘ ریفریجریٹر‘ پنکھے‘ روم کولر‘ فریزر‘ یو پی ایس‘ بیٹریاں‘ ڈسپنسر‘ جبکہ کاسمیٹکس جن میں خوشبودار صابن‘ شیمپو‘ کریم‘ پرفیوم و دیگر اشیا شامل ہیں پر ٹیکس و ڈیوٹی میں 0.5 فیصد سے لے کر ایک فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔تاہم ذرائع نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی کیلئے وفاقی وزیر پانی و بجلی کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مقامی کار ساز صنعت کو فروغ دینے کیلئے کاروں کے سپیئر پارٹس کی درآمد پر ڈیوٹی میں مزید کمی کا امکان ہے جبکہ ہیوی موٹرسائیکل بھی سستے ہوں گے کیونکہ مقامی سطح پر اسمبل ہونیوالے ہیوی  موٹرسائیکلوں کے فاضل پرزہ جات کی درآمد پر ڈیوٹی کم جبکہ 70 سے 100 سی سی تک موٹرسائیکلوں کے سپیئر پارٹس کی درآمد و تبادلوں پر ڈیوٹی میں اضافے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں 70 سے 100 سی سی تک موٹرسائیکل مہنگے ہونگے۔