ڈیڈ لائن نہیں مانتے‘ کمیٹی کام مکمل کرے گی تو رپورٹ دیں گے: رضا ربانی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + ایجنسیاں) آئینی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی حکومتی ڈیڈ لائن تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور واضح کیا ہے کہ جب کمیٹی کام مکمل کر لے گی تو رپورٹ دے دی جائےگی۔ 13 مارچ 18 مارچ کی ڈیڈ لائنیں دینے والے کمیٹی کا حصہ ہی نہیں، صوبائی خودمختاری کے معاملے پر کمیٹی میں اختلافات بدستور موجود ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو بھی پارلیمنٹ ہاﺅس میں چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبوں کو خودمختاری دینے سے متعلق مختلف آئینی شقوں کا جائزہ لیا گیا‘ سرحد و بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کمیٹی ارکان کا مسلسل اصرار ہے کہ صوبوں کو مکمل طورپر مالی، انتظامی اور سیاسی طور پر بااختیار بنایا جائے‘ اس کیلئے ضروری ہے کہ وفاق کنکرنٹ لسٹ کا مکمل خاتمہ کرے‘ صوبوں کو ان کے وسائل کا مکمل مالک بنایا جائے جس پر کمیٹی نے صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے حوالے سے وزارت خزانہ سے سفارشات طلب کی ہیں۔ کمیٹی نے انتخابات کے انعقاد سے متعلق الیکشن کمشن کی تجاویز کا جائزہ لیا سرکاری ملازمین کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرکاری ملازمین کو مستقبل میں غیر قانونی طریقے سے نہیں ہٹایا جاسکے گا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں رضا ربانی نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ آئینی کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے کبھی 13، کبھی 18 اور کبھی 23 مارچ کی ڈیڈ لائن دی جا رہی ہے‘ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ ہم حکومت یا کسی وزیر کے ماتحت نہیں بلکہ آئینی کمیٹی پارلیمنٹ کی منظوری سے بنی ہے جو آزاد اور خودمختار ہے‘ ہم اپنے طریقے سے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے حوالے سے وفاقی وزارت خزانہ سے تجاویز مانگ لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق قومی آمدنی اور محاصل کی تقسیم کے معاملے پر کمیٹی کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی‘ اس نے اس حوالے سے وفاقی وزارت خزانہ سے رائے طلب کر لی ہے۔ کمیٹی نے صوبوں کو براہ راست قرضے لینے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے‘ صوبوں کو مخصوص شرائط کے تحت قرضوں کی منظوری دی جائے گی۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ جو صوبہ اپنے مقامی یا غیر ملکی قرضے بروقت واپس کر رہا ہو اس میں وفاق کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ کمیٹی نے بعدازاں صوبائی خودمختاری کے معاملے پر تفصیلی غور و خوض سے قبل وفاق سے اس بارے میں رائے طلب کر لی۔