سزائے موت کا مسئلہ بین الاقوامی فورمز پر زیربحث ہے ‘ اپنے آئین اور قانون پر عمل کریں گے: دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ثناءنیوز+ اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون موجود ہے، ڈرون حملے ہماری خودمختاری، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بے فائدہ ہیں اس سے عسکریت پسندی میں مزید اضافہ ہوتا ہے، امید کرتے ہیں کہ مصر کی عوام اس کٹھن مرحلے سے نکل جائیں گے اور وہاں پر سیاسی استحکام آئیگا جس سے جمہوریت مصبوط ہوگی، شہریار خان وزیراعظم کی ہدایت پر پیغام لیکر بھارت گئے ہیں اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت بھارتی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، سعودی عرب کی طرف سے پاکستانی ورکرز کے حوالے سے ڈیڈ لائن میں توسیع خوش آئند ہے اس سے پاکستانی کی مشکلات کم ہونگی، سزائے موت کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ سمیت مختلف فورمز پر زیر بحث ہے، پاکستان اس حوالے سے اپنے آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھے گا۔ ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اپنے چینی ہم منصب کی دعوت پر چین گئے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان 8 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا چیلنج ہے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور بین الاقوامی برادری کے درمیان تعاون موجود ہے چین بھی اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے انسداد دہشتگردی کیلئے دونوں ملکوں کا ورکنگ گروپ قائم ہے، پاکستان نے ڈرون حملوں کا معاملہ امریکہ کے ساتھ ہر سطح پر اٹھایا ہے اور آئندہ بھی امریکہ کے ساتھ بات چیت میں اس مسئلے کو اٹھایا جائیگا۔ مصر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کو اخراجات میں تیس فیصد کمی کرنے کیلئے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ہم تجاویز تیار کر کے بھیج دی ہیں حتمی فیصلہ وزیراعظم کرینگے۔ وزیراعظم نے شہر یار خان کو ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت بھارتی قیادت سے رابطوں کی ذمہ داری سونپی ہے ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھارت کے ساتھ ہمارے امن عمل کا حصہ ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو خوشگوار بنایا جا سکے اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی انتظامات کا میکنزم موجود پاک رینجرز اور بی ایس ایف کے درمیان رابطہ موجود رہتا ہے اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو تو فلیگ میٹنگ ہو جاتی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی پاکستان کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ پالیسی کا احترام کریگا انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کو کنٹرول نہیں کرتا ایسے منفی بیانات سے ماحول خراب ہوتاہے ہم افغانستان میں امن واستحکام چاہتے ہیںاور مفاہمتی عمل میں ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری رواں ماہ کے آخر میں پاکستان آئیں گے۔پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے ہماری مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک رسائی ملے گی جس سے پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہونگے۔