حکومت آئی ایم ایف کے قرضے کی منظوری پارلیمنٹ سے لے: خورشید شاہ

حکومت آئی ایم ایف کے قرضے کی منظوری پارلیمنٹ سے لے: خورشید شاہ

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما خورشید شاہ کو گذشتہ روز اس وقت سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب وہ پیپلز پارٹی اسلام آباد کے سیکرٹریٹ میں یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کی تقریر کے دوران پارٹی کے کارکنوں نے خورشید شاہ کے خلاف سخت نعرے بازی شروع کردی اور ان کی تقریر سننے سے انکار کر دیا۔ اس دوران پارٹی کے دیگر قائدین کارکنوں کو خاموش کرانے کوشش کرتے رہے لیکن کارکنوں نے کسی نہ سنی۔ اس موقع پر خورشید شاہ سخت غصے میں آگئے اور انہوں نے کارکنوں سے کہا ”شرم کرو“ جس کے بعد ان کے خلاف نعرے بازی میں مزید تیزی آگئی۔ اس صورتحال میں خورشید شاہ اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر انتہائی غصے کے عالم میں تقریب سے چلے گئے۔ دریں اثناءپیپلز پارٹی کے کارکنان نے خورشید شاہ کا پیچھا ان کی گاڑی تک کیا، ان کے خلاف مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ قبل ازیں یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب اور قومی اسمبلی کے اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ہم اگر 5 جولائی کے المناک دن کو یاد رکھتے تو پرویز مشرف جیسا آمر نہ آتا، پیپلز پارٹی ڈکٹیٹر نہیں جمہوریت کی پیداوار ہے۔ انہوں نے کہا حکومت آئی ایم ایف سے قرضے کے حالیہ معاہدے کی تفصیلات اور شرائط پارلیمنٹ میں پیش کرے اور پارلیمنٹ سے اس کی باضابطہ منظوری لے، اگر چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوا تو حتمی فیصلہ صدر مملکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 3.5 ارب ڈالر کا قرضہ آئی ایم ایف کو واپس کیا، ہم نے بجلی پر 14 سو ارب روپے سبسڈی دی، موجودہ حکومت نے سبسڈی ختم کرتے ہوئے بجلی بھی مہنگی کر دی، جن لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دئیے اب وہ اس حکومت کو بھی بھگتیں۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے 14 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام حاصل کئے گئے قرضہ جات کا جائزہ لے پھر قوم کو پتا چلے گا کہ کس دور میں کتنا قرضہ لیا اور کہاں خرچ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں 15 جولائی تک چیئرمین نیب کے لئے نام پر اتفاق ہو جانا چاہئے، اپوزیشن کی جانب سے کسی سیاسی جماعت سے وابستہ یا جانبدار شخص کا نام نہیں دیا جائیگا، اس ضمن میں حکومت و اپوزیشن کے درمیان بامعنی مشاورت ہونی چاہئے۔ وزیراعظم میرے خط کا جواب نہیں دیتے تو چاروں نام صدر مملکت کو بھجوائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کو ایم اور تحریک انصاف سے چیئرمین نیب کے نام پر مشاورت کے لئے لکھا تھا مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
خورشید شاہ