رضا حیدر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر متحدہ کا سینٹ سے واک آﺅٹ‘ کراچی فوج کے حوالے کیا جائے : اے این پی‘ جے یو آئی

اسلام آباد (خبر نگار + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) سابق ایم پی اے رضا حیدر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر ایم کیو ایم نے سینٹ سے واک آﺅٹ کیا، اے این پی اور جے یو آئی ف نے کراچی مےں قتل عام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز، پولیس اور انتظامیہ ناکام ہو چکے ہےں، کراچی کا انتظام فوج کے حوالے کیا جائے، ایوان سے وزراءکی غیر حاضری پر ارکان نے گذشتہ روز بھی شدید احتجاج کیا۔ تفصیلات کے مطابق عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ کراچی مےں قتل عام ہو رہا ہے، روزانہ لوگ مر رہے ہےں، ان کے گھر نذر آتش کئے جا رہے ہےں، حکومت نے امن قائم کرنے کےلئے کیا کیا ہے۔ حاجی عدیل نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور انتظامیہ ناکام ہو چکے ہےں، ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کا انتظام فوج کے حوالے کیا جائے، اعظم سواتی نے کہا کہ کراچی کو اسلحے سے پاک کیا جائے اور اس کا انتظام فوری طور پر فوج کے سپرد کر دیا جائے، محمد علی درانی نے کہا کہ پورے ملک مےں سیلاب آیا ہوا ہے لیکن کراچی کے واقعات کی وجہ سے متاثرین تک امداد نہیں پہنچ رہی، سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر یکجہتی کا مظاہرہ کریں تو یہ خون خرابہ رک جائے گا، الزامات کی سیاست ختم ہونی چاہئے۔ الیاس بلور نے کہا کہ کراچی مےں امن و امان کی ذمہ داری فوج کو دیئے بغیر حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ قائد ایوان نیئر بخاری نے کہا کراچی مےں قیام امن کے سلسلے مےں صوبائی حکومت چاہے تو فوج طلب کر سکتی ہے، ایم کیو ایم اور اے این پی ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بند کر کے کراچی مےں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ رضا حیدر کے قتل کی تحقیقات کے لئے ٹیم کام کر رہی ہے، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے مےں لایا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر طاہر مشہدی نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اس ایوان مےں کہا کہ انہیں علم ہے کہ کس نے متحدہ کے ایم پی اے کو قتل کیا ہے، 24گھنٹے مےں مجرموں کو گرفتار کر لیا جائے گا، ہم پوچھتے ہےں کہ مجرم گرفتار ہوئے کہ نہیں، پورا کراچی جل رہا ہے، صوبائی حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ ظفر علی شاہ نے وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوال کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً ایوان سے علامتی واک آﺅٹ کیا۔ قائم مقام چیئرمین جان محمد جمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کی کوشش کی جانی چاہئے ایسا نہ ہو کہ پھر کوئی لیفٹ رائٹ کرتا آجائے، مےں اتنا بڑا ڈیموکریٹ ہوں کہ آپ کو پنجاب مےں اتنا بڑا ڈیموکریٹ نہیں ملے گا۔ ایوان بالا مےں صارفین تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2010ءسمیت پانچ آرڈیننس پیش کر دیئے گئے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف و پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے پرائس کنٹرول و منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کی روک تھام (ترمیمی) آرڈیننس 2010ءتسلیم و نفاذ (ثالثی معاہدات و غیر ملکی ثالثی ایوارڈ) آرڈیننس 2010ئ، وویمن ان ڈسٹرس اینڈ ڈی ٹینشن فنڈز (ترمیمی) آرڈیننس 2010ءاسلام آباد صارفین تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2010ءاور سنٹرل لاءآفیسرز (ترمیمی) آرڈیننس 2010ءایوان مےں پیش کئے۔ وقفہ سوالات کے دوران بابر اعوان نے کہا کہ 18وےں ترمےم کے خلاف اپےلوں کا فےصلہ آنے تک الےکشن کمشن از سر نو تشکےل نہےں دےا جاسکتا، الےکشن کمشن کی تشکےل کےلئے پارلےمانی کمےٹی بنانے کےلئے سپےکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دےا ہے۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ 18وےں ترمےم کے کسی آرٹےکل کے خلاف سپرےم کورٹ نے حکم امتناعی جاری نہےں کےا لہٰذا الےکشن کمشن کی از سر نو تشکےل کے بغےر ضمنی انتخابات کا انعقاد غےر آئےنی ہے۔ حاجی عدیل کے اعتراض پر جان جمالی نے کہا کہ وزیراعظم قومی اسمبلی مےں سوالوں کے جواب دے سکتے ہےں تو سینٹ مےں قائد ایوان بھی وزیراعظم کے نمائندے کی حیثیت سے سوالوں کے جواب دے سکتے ہےں۔ حکومت نے ارکان سینٹ کو بتایا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل دسمبر تک مکمل کر کے ان کو غلطیوں سے پاک کرایا جائے گا۔ پارلیمنٹ چاہے تو ملک مےں کام کرنے والی ملکی و غیر ملکی این جی اوز کے حوالے سے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ دریں اثناءاجلاس غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کر دیا گیا۔