سپریم کورٹ بار کے موجودہ اور سابق عہدےداروں کو جسٹس افتخار نے ظہرانہ دیا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ بنچ اور بار عدلیہ کی آزادی کے لئے متحد ہیں۔ اس اتحاد کی صورت میں ہی وکلا اور سائلین کے مسائل کو جلدی اور احسن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ دونوں کا مقصد بھی مشترکہ ہے کہ وہ آئین کی بالادستی‘ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نومنتخب اور مدت ختم کرنے والی باڈی کے عہدےداروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے موجودہ صدر یٰسین اور سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ چیف جسٹس نے عہدےداروں کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ قبل ازیں بار کے نومنتخب عہدےداروں بشمول صدر یٰسین آزاد نے سابقہ باڈی سے چارج لیا۔ عہدےداروں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے وکلا کے کاز کے لئے اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے جہاں ضرور ت ہوئی عدلیہ کے فیصلوں پر غیر جانبدارانہ رائے زنی کی۔ نئے صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سابقہ اچھی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے وکلا کی فلاح کے لئے کام کریں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی میں چیف جسٹس کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دونوں ادارے مل کر عدلیہ کی آزادی کا پرچم مزید بلند کریں گے۔ یٰسین آزاد نے کہا کہ عدلیہ کی مضبوطی کے لئے تعاون جاری رہے گا۔