ججز تقرر پارلیمانی کمیٹی میں جوڈیشل کمشن کی سفارشات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی ) اعلیٰ عدلیہ میں ججز تقرریوں کے بارے میں قائم پارلیمانی کمیٹی میں جوڈیشل کمشن کی حالیہ سفارشات کے حوالے سے ججز تقرریوں سے متعلق ناموں پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ سفارشات پر مزید غور 10 نومبر کو ہو گا۔ 14 دنوں میں کوئی فیصلہ نہ ہونے پر جوڈیشل کمشن کی سفارشات خودبخود منظور تصور ہوں گی۔ جمعہ کو پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر نیئر حسین بخاری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اراکین سینیٹر چودھری شجاعت حسین، سینیٹر اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، عاصمہ ارباب عالمگیر نے شرکت کی۔ کمیٹی نے جوڈیشل کمشن کی سفارشات پر غور اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا اور سفارشات کے بارے میں مشاورت کی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کافی ججز کی تقرریاں ہونا ہیں۔ ریکارڈ کو دیکھا ہے جائزہ کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ اجلاس ان کیمرہ تھا اس لئے وہ صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ کمیٹی کا دوبارہ اجلاس 10 نومبر کو ہو گا 14 دنوں میں کوئی فیصلہ کر لیں گے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے لئے نامزد تین شخصیات کی ٹیکس تفصیلات منگوانے کا فیصلہ کر لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق جج کے لئے نامزد شوکت صدیقی‘ عظیم آفریدی اور ایم قریشی کی ٹیکس تفصیلات ایف بی آر سے منگوائی گئی ہیں‘ پارلیمانی کمیٹی میں سپریم کورٹ کے لئے نانامزد ججز کی سفارشات پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔