حکومت پاکستان کے مقرر کردہ وکلا پر عافیہ صدیقی کے اعتراضات مسترد

نیویارک (نمائندہ خصوصی) امریکی عدالت نے گزشتہ روز حکومت پاکستان کی جانب سے مقرر کی گئی وکلاءٹیم پر عافیہ صدیقی کے اعتراضات مسترد کر دئیے جبکہ اسکے خلاف گزشتہ سال افغانستان میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش کے اقدامات میں مقدمے کی سماعت کیلئے 19 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ مقدمے کی تیاری کے سلسلے میں عدالتی کارروائی کے دوران ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج رچرڈ برمن نے پاکستانی حکومت کی جانب سے مقرر کئے گئے وکلا پر عافیہ صدیقی کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس کیس میں اس کی جانب سے وہی وکلا پیش ہوں گے جن کی عدالت پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ ان وکلا میں مس لنڈا مورینو‘ مس الین شارپ اور چارلس سوفٹ شامل ہیں۔ اس ٹیم کی عدالت نے 2 ستمبر کو منظوری دی تھی۔ جج نے عافیہ صدیقی کے وکلا کی موجودگی میں اس سے بند کمرے میں ڈیڑھ گھنٹے تک ہونیوالی گفتگو کے بارے میں بتایا کہ عافیہ صدیقی نے عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اس کی توہین آمیز تلاشی پر شدید احتجاج کیا۔ جج نے بتایا کہ انہوں نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسا راستہ نکالیں جس کے تحت عافیہ صدیقی کو سخت طریقہ کار سے نہ گزرنا پڑے۔ جج نے کہا کہ اگرچہ سماعت کے دوران عافیہ کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے تاہم اگر تلاشی کے ضابطوں میں نرمی ممکن نہیں تو وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت میں شرکت کر سکتی ہیں۔
عافیہ صدیقی