این آر او کی بھرپور مخالفت کرینگے‘ ایٹمی اثاثوں کو امریکہ سے خطرہ ہے : فضل الرحمان

اسلام آباد ( وقائع نگارخصوصی +ریڈیو نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ این آر او پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں این آر او کے خلاف ووٹ دیں گے‘ امریکی ڈرون حملوں کو ملک کی خودمختاری پر حملہ تصور کرتے ہیں‘ ڈرون حملوں پر حکومت کو پوزیشن واضح کرنا ہوگی‘ عوامی تشویش دورکرنے کیلئے حکومت کا زبانی احتجاج کافی نہیں‘ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو امریکہ سے خطرہ ہے‘ بلیک واٹر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے‘ اسلام آباد‘ کوئٹہ‘ پشاور اورکراچی میں منی پینٹاگون کیلئے دی گئی زمینیں واپس لی جائیں‘ امریکہ مسلم ممالک میں مذہبی معمولات کا خاتمہ چاہتا ہے‘ کسی عالم نے خودکش حملوں کو جائز قرار دینے کا فتویٰ نہیں دیا‘ کیری لوگر بل کی کڑی شرائط کے تحت امریکی امداد کو مسترد کرتے ہیں۔ فضل الرحمن نے کہاکہ جے یو آئی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کرتی‘ فوجی آپریشن پالیسی سے فوج‘ ملک اور قوم دلدل میں پھنس گئی جبکہ فوجی آپریشن پارلیمنٹ کی قراردادوں اور جمہوریت کی نفی ہے۔دریں اثناءمولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کے لئے ہم نے طالبان سے بالواسطہ رابطہ قائم کیا تھا لیکن حکومت نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اب حکومت نے آپریشن شروع کر دیا ہے مصالحت کا ماحول پیدا ہوا تو ہم مصالحت کرانے کے لئے تیار ہیں‘ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت علما اسلام کی مرکزی مجلس شوری کا دو روزہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے این آر او کے بارے میں جمعیت علما اسلام بھرپور مخالفت کرے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے رمضان المبارک میں بھی صدر آصف زداری کو کہا تھا کہ وہ این آر او کو پارلیمنٹ میں نہ لائیں اور دوستوں کو امتحان میں نہ ڈالیں۔
فضل الرحمن