پی آئی اے کی نجکاری کیلئے پرکشش پیشکشیں، حکومت کی توجہ اصلاحات پر ہے

پی آئی اے کی نجکاری کیلئے پرکشش پیشکشیں، حکومت کی توجہ اصلاحات پر ہے

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) قومی ائرلائن پی آئی اے کی نجکاری کیلئے حکومت کو تگڑے مالیاتی گروپوں کی طرف سے پرکشش پیشکشیں موصول ہو رہی ہیں تاہم سردست حکومت کی پوری توجہ پی آئی اے کی تنظیم نو اصلاحات پر مرکوز ہے۔ شہری ہوابازی سے وابستہ ایک اہم حکومتی شخصیت کے مطابق پی آئی اے کی خریداری کیلئے موصول ہونے والی کسی بھی پیشکش کو مسترد نہیں کیا گیا کیونکہ اعلیٰ ترین سطح پر شدت سے یہ احساس پایا جاتا ہے نجی شعبہ ہی پی آئی اے کو اس کی عظمت رفتہ واپس دلا سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے اس وقت حکومت کے سامنے قومی ائرلائن کی حالت زار سے بڑے چیلنج موجود ہیں جن میں توانائی کا بحران اور امن و امان کی صورتحال سرفہرست ہے۔ پی آئی اے کے افسروں اور اہلکاروں کو ائرلائن کی نجکاری کے امکانات کا علم ہے لیکن ان اطلاعات سے ملازمین میں سراسیمگی نہیں پھیلی۔ پی آئی اے کے ایک افسر کے مطابق سب کو بخوبی اندازہ ہے پی آئی اے بدترین مالیاتی بحران، اقرباءپروری، کرپشن اور نااہلی کے گرداب میں پھنسی ہے۔ ادارے کے مستقبل کا اندازہ لگاتے ہوئے نوجوان اور میڈ کیریئر افسران جن کا زیادہ تر تعلق سروسز، ہوابازی اور انجینئرنگ سے ہے، خلیجی ریاستوں کی فضائی کمپنیوں میں ملازمتوں کیلئے کوشاں ہیں جبکہ سینئر افسر و اہلکار ذہنی طور پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ یا گولڈن شیک ہینڈ کے منتظر ہیں۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق پی آئی اے کو خریدنے کیلئے ملکی اور بین الاقوامی گروپ دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستانی گروپوں میں وہ بھی شامل ہیں جن کے ایک سربراہ موجودہ حکومت سے بہت قریب ہیں، بینکنگ اور مالیات میں ان کا وسیع تجربہ ہے۔ بین الاقوامی گروپوں میں سے ایک کا تعلق شورش زدہ عرب ریاست سے ہے۔