مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں، بامعنی مذاکرات کرنا ہونگے: عمران

مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں، بامعنی مذاکرات کرنا ہونگے: عمران

اسلام آباد (ثناءنیوز+ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کشمیری عوام کی سیاسی و سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی پرامن جدوجہد اور جائز حق کو بھارت کو بھی تسلیم کرنا پڑیگا۔ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں۔ خطے میں امن کا انحصار پاکستان بھارت تعلقات پر ہے۔ دونوں ممالک کو اس دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس اور بامعنی مذاکرات کرنا ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی قیادت کیلئے آج بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تھے۔ سردار عتیق احمد خان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو خیبر پی کے میں صوبائی حکومت کی تشکیل اور چاروں صوبوں سے بھرپور کامیابی پر مبارکباد دی۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہاہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیاسی وعسکری قیادت کو سر جوڑکر بیٹھنا ہو گا، خیبر پی کے کو ماڈل صوبہ بنائیں گے، لوگوں کوان کی دہلیز پر انصاف ملے گا، ہم ایک مو¿ثر احتساب سیل بنائیں گے جوحکومت کی کرپشن پکڑ سکے۔ کرپشن پر قابو پائے بغیرملک کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی اورکرپشن کے خاتمے کیلئے ایک آزاد اور مو¿ثر احتساب سیل کے قیام کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمیں ایک لائحہ عمل بنانا ہو گا اور اس کے لئے سیاسی وعسکری قیادت کو سر جوڑنا ہو گا، دہشتگردی پرآرمی چیف وزیراعظم اور حساس اداروں کا مو¿قف یکساں ہونا چاہئے۔ عمران خان انٹرویوکے دوران شادی کے سوال پر شرما گئے اور کہاکہ اب ان کی عمر ساٹھ سال ہو چکی ہے، اگرتیس سال عمر ہوتی تو پھر شادی کر لیتے، اس وقت ملک کو مہنگائی سے چھٹکارا چاہئے، لوگوں کو ان کی شادی کی فکر نہیں۔