لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کیلئے خفیہ اداروں کو قانونی دائرہ میں لایا جائے : سینٹ قائمہ کمیٹی

لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کیلئے خفیہ اداروں کو قانونی دائرہ میں لایا جائے : سینٹ قائمہ کمیٹی

اسلام آبا د( آئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 2012ءکی جاری کردہ رپورٹ پیش کی گئی جس کے جائزہ کےلئے مشاہدحسین سیدکی سربراہی میںذیلی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سب کمیٹی رپورٹ پر غور کر کے ایک ماہ میں کمیٹی کو اپنی سفارشات پیش کرے ، کمیٹی نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متفقہ طور پر خفیہ اداروں کو قانون کے دائرہ کار میں لانے پر زور دیا تاکہ لاپتہ افراد کے مسائل کو حل کیا جاسکے جبکہ ابتدائی طور پر خفیہ اداروں کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے عوض چھوٹ دینے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا ہے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقدہ کمیٹی کی صدارت سینیٹر افراسیاب خٹک کررہے تھے۔ سینیٹر کامران مائیکل کا کہناتھا کہ بدقسمتی سے توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے جس سے بہت سے معصوم لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں اور چند افراد اپنی ذاتی خواہش کی تکمیل کے لئے ایسا گھناﺅنا عمل کرتے ہیں ۔ اس موقع پر کمیٹی نے 2012ءکی رپورٹ پر سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت سب کمیٹی تشکیل دے دی جو اس رپورٹ پر غور کرکے ایک ماہ کے اند رکمیٹی کو سفارشات دے گی ۔ اس موقع پر سینیٹر ثریا امیرالدین نے کہا کہ گجرانوالہ میں جس طرح مردہ بچی سے زیادتی کا واقعہ پیش آرہا ہے وہ قابل مذمت ہے اور تشویش کے قابل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کو عزت اور جان کے تحفظ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ حکومت کو اس حوالے سے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ سے ڈیرہ بگٹی کے سینکڑوں افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں یہاں ڈیرہ لگائے بیٹھے ہیں ۔ دریں اثناءسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ نے پی ڈبلیو ڈی میں کرپشن کی عوامی شکایات کانوٹس لیتے ہوئے حکام کو کاروائی کر نے اور 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کر نے کی ہدایت کی۔ وزیر مملکت برائے ہاﺅسنگ بیرسٹر عثمان نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اسلام آباد میں سرکاری مکانات قابضین سے جلد واگزار کرا لیے جائیں گے۔کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر شاہی سید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ ارکان کمیٹی نے پی ڈبلیو ڈی میں کرپشن پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہاں ہر کام رشوت لے کر کیا جاتا ہے اور باقاعدہ20 فیصد کمیشن وصول کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں ایس ڈی اوز سے لے کر ٹاپ کے افسران کے پاس تین تین بنگلے ہیں اور وہ ارب پتی بن چکے ہیں۔ چیئرمین شاہی سید نے کہا بیورو کریسی پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیریز کی تذلیل پر تلی ہوئی ہے ، پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرینز کا احترام سب سے زیادہ ہے بیوروکریسی کو ان سے کوئی خاص مسئلہ ہے مختلف حیلوںبہانوں سے پارلیمنٹیریز کی پریشانیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔چیئر مین سینیٹ اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے بجلی گیس کے میڑ کاٹ کر سپلائی بند کر دی جاتی ہے جس سے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے کہ اتنے اہم عہدوں پر تعینات سربراہوں کی سپلائی بند کی جاتی ہے تو عام عوام کا کیا حال ہو گا۔ انہوں نے کہا کمیٹی ہدایت کرتی ہے کہ آئندہ تمام بلز وقت پر ادا کئے جائیں اور دو ماہ کے بعد اس کمیٹی کو رپورٹ کی جائے ۔رکن کمیٹی سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کرپشن کا گڑھ ہے۔