لال مسجد آپریشن: مشرف و دیگرکیخلاف اندراج مقدمہ کیلئے ایک اور درخواست تھانہ آبپارہ میں جمع

اسلام آباد (ثناءنیوز) لال مسجد آپریشن کے ذمہ دار پرویزمشرف سمیت 18افراد کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لئے تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں ایک اور درخواست جمع کرادی گئی۔درخواست لال مسجد آپریشن کے دوران جاں بحقہونے والے سولہ سالہ طالب علم حافظ محمد شعیب کے والد فضل الرحمٰن صدیقی نے جمع کرائی۔حافظ محمد شعیب شہید کے والد نے ترمیم شدہ درخواست یکم جولائی 2013کی شب تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں جمع کرائی۔ترمیم شدہ درخواست میں جنرل (ر) پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز،سابق سربراہ حکمران جماعت چودھری شجاعت حسین،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاﺅ،سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجازالحق،سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات محمد علی درانی،سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید قصوری،سابق وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد ،سابق وزیر ماحولیات فیصل صالح حیات، سابق وزیر مملکت طارق عظیم،سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری،سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری محمد علی،سابق سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ،سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد،سابق ایس ایس پی اسلام آباد ظفر اقبال ،سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز اور سابق ڈی آئی جی اسلام آباد شاہد ندیم بلوچ کو نامزد کیا گیا ہے۔یکم جولائی کو حافظ محمد شعیب کے والد لال مسجد آپریشن کیس میں وکیل اور شہداءفاﺅنڈیشن لال مسجد کے چیئرمین طارق اسد ایڈووکیٹ کے ہمراہ درخواست جمع کرانے تھانہ آبپارہ پہنچے تو ایس ایچ او تھانے میں موجود نہیں تھے۔ڈیوٹی پر موجود اے ایس آئی محمد یوسف نے درخواست وصول کی اور کہا کہ ایک دن کے اندر آپ کو درخواست کے متعلق ہونے والے فیصلے سے آگاہ کردیا جائے گا۔لیکن تاحال درخواست پر ہونے والی کارروائی سے درخواست گزار کو آگاہ نہیں کیا گیا۔شہداءفاﺅنڈیشن لال مسجد وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تمام صورتحال کا نوٹس لیں اور ان افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں جو شہداءکے ورثاءکو انصاف کی فراہمی میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔