فاٹا اصلاحات پر عمل نہ ہوا تو عالمی عدالت سے رجوع کرینگے:گرینڈ اسمبلی

اسلام آباد (ثناءنیوز) قبائلی عمائدین نے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے لئے اسلام آباد میں پگڑی رکھتے ہوئے اپیل کی ہے کہ خدارا اب تو ایسی فاٹا کونسل قائم کر دی جائے جو گورنر ، پولیٹیکل انتظامیہ اور فاٹا سیکرٹریٹ کو جوابدہ ہو ۔ فاٹا اعلامیہ میں قبائلی علاقوں پر نافذ جنرل سیلز ٹیکس اور ’ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن کو مسترد کرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کر دیا گیا ۔ واضح کیا گیا کہ فاٹا اصلاحات کے پیکج پر عملدرآمد نہ ہوا تو قبائلی عوام عالمی عدالت میں جانے پر مجبور ہو گی ۔ جمعرات میں اسلام آباد میں فاٹا گرینڈ اسمبلی منعقد ہوئی ۔ گرینڈ اسمبلی کے چیئرمین انجینئر طور گل اور کوآرڈینیٹر ظاہر شاہ ساقی نے سفارشات کا اعلان کیا ۔ شمالی وزیرستان سے قبائلی راہنما خان مرجان نے اس موقع پر قبائلی عوام کے مسائل کے حل کے لئے انتہائی جذباتی تقریر کی اور اپنی پگڑی اتارتے ہوئے کہاکہ خدارا اس پگڑی کی لاج رکھتے ہوئے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے ۔ 65 سالوں سے سیاسی گوروں نے قبائل کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ قبائل اپنا تشخص چاہتے ہیں ۔ اس تشخص میں رہتے ہوئے تبدیلی کے ہر عمل کے لئے تیار ہیں ۔مشکلات کا واحد حل خود مختار فاٹا کونسل کا قیام ہے ۔ چور دروازے بند کئے جائیں جو بھی گورنر آیا قبائلیوں کو ذلیل کرنے کے سوا کچھ نہیں دیا قبائلی عوام موجودہ حکومت سے توقع رکھتے ہیں اصلاحات کے عمل پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے ورنہ ہم عالمی عدالت میں انصاف میں جائیں گے ڈرون حملے پاکستان کی تقدیر کو تباہ کرنے کا ذریعہ ہیں ۔ صدر پاکستان قبائلیوں سے گزشتہ روز ملاقات میں موقع پر فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد پر اعلان کر سکتے تھے ۔ سفارشات میں کہا گیا کہ قبائلی علاقوں میں امن لانے اور برقرار رکھنے کے لئے فاٹا گرینڈ اسمبلی کا مشترکہ اعلامیہ پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے ۔ فاٹا اصلاحات کے لئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ صدر پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ 2011 ءکے فاٹا اصلاحات کے پیکج کو فی الفور اور جامع نفاذ کے لئے احکامات جاری کئے جائیں ۔ فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فاٹا سے متعلق آئینی شقوں میں ترامیم کی جائیں تاکہ قبائلی ارکان بھی فاٹا کے بارے قانون سازی میں حصہ لے سکیں ۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بنیادی حقوق کو فاٹا تک توسیع دی جائے ۔ فاٹا کی حیثیت کا فیصلہ کرنے کا حق اس کی عوام کو دیا جائے ۔ فاٹا میں بھی بلدیاتی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ جرگہ نظام کو موثر بنایا جائے ۔ فاٹا کی خواتین کے لئے بھی سینٹ اور قومی اسمبلی میں نشستیں مخصوص کی جائیں ایف سی آر میں فاٹا کے عوام کے بنیادی حقوق تسلیم کرنے کے لئے ترامیم کی جائیں یا پھر ایف سی آر کو منسوخ کر دیا جائے ۔ فاٹا میں بھی عدلیہ اور انتظامیہ کو علیحدہ کیا جائے ۔ عدالت عظمی اور عدالت عالیہ کے کردار کو قبائلی علاقوں تک توسیع دی جائے ۔ فاٹا کے روایتی مسلح اداروں کو مضبوط کیا جائے ۔ پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس اور پیمرا قوانین کو فاٹا تک توسیع کی جائے ۔ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریکولیشن 2011 ءکو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ فاٹا اعلامیہ میں بجٹ 2013-14 ءمیں قبائلی علاقوں پر جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے ۔