بہو کا قتل: پولیس افسروں نے شواہد مٹانے میں مدد کی: چیف جسٹس‘ آئی جی کے پی کے‘ اسلام آباد کو نوٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد کی بہو کے قتل سے متعلق کیس میں آئی جیز اسلام آباد اور خیبر پی کے و دیگر ذمہ داران پولیس افسران کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں، چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد بن یامین سے کہا ہے کہ آپ پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں، آئندہ سماعت پر وکیل کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ آئی جی خیبر پی کے احسان غنی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی تقرری اس واقعہ کی تاریخ کے بعد ہوئی تاہم انہوں نے متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سے کیس کی معلومات حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کو وحیدہ کے قتل سے متعلق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر وہ ایف آئی آر درج کراتے اور نہ ہی لواحقین نے مقدمہ کلئے درخواست دی البتہ نعش کو ہسپتال منتقل کر کے پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ آئی جی خیبر پی کے کی سرزنش کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ واقعہ آپ کے علاقے کا ہے، مقدمہ اسلام آباد میں درج ہوا، آپ بے خبر رہے، آپ بھی اپنا وکیل کر لیں، ہم فیصلہ دیتے ہیں اور بلوچستان کے آئی جی کو یہ کیس سونپ دیتے ہیں۔ روزانہ پولیس کے ناروا سلوک کیخلاف ہزاروں درخواستیں سپریم کورٹ میں آتی ہیں، ہم سمجھتے تھے کہ پولیس اہلکار ملوث ہوتے ہیں، یہاں تو آئی جی خود ملوث ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا مت سمجھیں کہ مقتولہ کا خون رائیگاں جائے گا، بادی النظر میں لگتا ہے کہ آئی جی خیبر پی کے بھی آئی جی اسلام آباد کی معاونت کر رہے تھے۔ مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانا چاہتے ہیں۔ مقتولہ وحیدہ کی بہن نے عدالت کو بتایا کہ علی بن یامین شرابی اور غلط کاموں میں ملوث تھا، اسی وجہ سے میری بہن کا قتل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وحیدہ کی موت کے بعد آئی جی بن یامین پولیس سکواڈ کے ساتھ پشاور آئے اور نعش کو چار گھنٹے کیلئے غائب رکھا۔ مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ وحیدہ کے قتل میں ان کا والد دریا خان، بھائی خالد الرحمان اور بھابھی بھی ملوث ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری افسر اپنے اعلیٰ افسر کے غیرقانونی حکم کیخلاف مزاحمت کیوں نہیں کرتے۔ عدالت نے تو سول افسروں کے تحفظ کیلئے متعدد فیصلے دیئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے آئی جی خیبر پی کے اور ایس ایس پی اسلام آباد یاسین فاروق سے قانون کے مطابق کارروائی نہ کرنے والے اور قتل کے شواہد ضائع کرنے والے ذمہ دار اہلکاروں کی فہرست طلب کی ہے جسے عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ آئی جی بن یامین سمیت اسلام آباد کے ذمہ دار افسران کے نام کی فہرست ایس ایس پی آپریشن نے دی جس میں ایس پی جمیل ہاشمی، ایس ایچ او سجاد حیدر شامل ہیں جبکہ ایس ایس پی آپریشن فاروق یاسین کا نام عدالت نے ڈلوایا جبکہ خیبر پی کے کے پولیس افسران کے نام آئی جی احسان غنی نے دیئے جس میں عمران شاہد، فیصل، عمر فاروق، سردار حسین اور رضوان اللہ شامل ہیں۔ آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے خیبر پی کے کے پولیس افسران سے کہا کہ مقدمہ درج کریں اور مقتولہ کی لاش تدفین کیلئے ان کی والدہ اور بہن کی رضامندی سے اسلام آباد لے کر آئے اور یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہم تدفین نہیں کرینگے جس کے بعد اسلام آباد میں ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا۔ عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا ہے کہ آئی جی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ پشاور کے واقعے کا مقدمہ اسلام آباد میں درج کریں۔ ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد یاسین فاروق کے تحریری بیان کے مطابق آئی جی بن یامین کے حکم پر اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں مقتولہ وحیدہ کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک سادہ کیس تھا بظاہر پولیس نے تفتیش کو نقصان پہنچایا ہے، مقتولہ کی ماں نے اپنے شوہر اور بیٹے کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے ہیں، ایسے واقعہ میں مقدمہ درج ہونا چاہئے تھا۔ جسٹس اعجاز چودھری نے پولیس حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پہلے روز کے شواہد ضائع کر دیئے۔ شواہد ضائع کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی اسلام آباد نے مقتولہ کی قبر پر پہرہ کیوں لگایا؟ جس پرایس ایس پی آپریشن یاسین فاروق نے موقف اختیار کیا کہ معلوم نہیں قبر پر پہرہ کیوں لگایا گیا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیسے ایس ایس پی ہیں آپ کو معلوم نہیں کہ قبر پر پہرہ لگایا گیا یا نہیں۔