بادی النظر میں سلمان فاروقی کے بطور وفاقی محتسب حلف پر شکوک و شبہات ہیں : جسٹس افتخار

بادی النظر میں سلمان فاروقی کے بطور وفاقی محتسب حلف پر شکوک و شبہات ہیں : جسٹس افتخار

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) ایم ڈی پرنٹنگ پریس نے سلمان فاروقی کے بطور وفاقی محتسب حلف نامے کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں پیش کر دیا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دئیے کہ بادی النظر میں سلمان فاروقی کی بطور وفاقی محتسب حلف کے معاملے پر شکوک وشبہات ہیں، دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ سلمان فاروقی کا بطور وفاقی محتسب تقرر ہی نہیں ہو۔ ایم ڈی پرنٹنگ پریس نے عدالت کو بتایا کہ سلمان فاروقی کا نوٹیفکیشن ایوان صدر سے ڈی جی زاہد عثمان ذاتی طور پر لے کر آئے۔ چیف جسٹس نے پرنٹنگ پریس کا رسید رجسٹر دیکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اتنا بڑا ادارہ اپنا رجسٹر بھی مناسب طور منظم نہیں رکھ سکتا۔ اے جی پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ سلمان فاروقی نے مارچ اور اپریل کی بطور سیکرٹری جنرل لی گئی تنخواہیں واپس کر دی ہیں جبکہ بطور وفاقی محتسب انہیں مینوئل بل کے ذریعے تنخواہیں ادا کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے حکم میں کہا کہ جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق سلمان فاروقی دسمبر سے مارچ تک قائمقام وفاقی محتسب رہے۔ وزیراعظم نے سلمان فاروقی کی اہلیہ کے علاج معالجے کے لئے 25 ہزار ڈالر منظور کئے، بیرون ملک علاج معالجے کے لئے جانے سے پہلے ان کے پاس بطور جنرل سیکرٹری ایوان صدر کا چارج تھا۔ وفاقی محتسب کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ قائم مقام عہدے کے باعث حلف کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ وسیم سجاد نے عدالت کو بتایا کہ میرے م¶کل سلمان فاروقی اہلیہ کے علاج کے سلسلے میں امریکہ میں ہیں اور وہ اس کیس میں خود پیش ہونا چاہتے ہیں اس لئے سماعت ملتوی کی جائے جس پر عدالت نے 22 جولائی تک سماعت ملتوی کر دی۔