اڈیالہ جیل لاپتہ افراد کیس، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں خفیہ اداروں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے لاپتہ افراد اور ایکشن ایڈ ریگولیشن آرڈی نینس 2012 سے متعلق از خود نوٹس مقدمہ کی سماعت 29 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے کہا خفیہ ادارے خود اعتراف کر چکے ہیں کہ جب اصل ملزم نہ ملے تو اس کی فیملی کے افراد کو اٹھا کر لے جاتے ہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں مگر حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر ہی ہے ہر جگہ الگ الگ جنگل کا قانون ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب نیا ایکٹ فاٹا کےلئے بنایا جا سکتا ہے تو ملک کے دوسرے حصوں کے لئے کیوں نہیں؟ آئین کے آرٹیکل 10 اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے آرمی کورٹس میں بھی ٹرائل کے وقت آرمی افسران موجود ہوتے ہیں جو رپورٹس تیار کرتے ہیں اسی رپورٹ کی بنیاد پر حراست میں لئے گئے قیدی کو سزا سنا دی جاتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا وہ اس حوالے سے حکومت اور متعلقہ حکام سے بات کریں گے کچھ مہلت دی جائے۔