اسلام آباد ہائیکورٹ، وصی ظفر کے بیٹے، بہو کو صلح کیلئے ایک روز کی مہلت

اسلام آباد ہائیکورٹ، وصی ظفر کے بیٹے، بہو کو صلح کیلئے ایک روز کی مہلت

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر قانونی وصی ظفر کی بہو اور بیٹے کے درمیان عدالت سے باہر صلح کے لئے ایک روز کی مہلت دے دی۔ عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پانچ سالہ ماہ نور اور ڈیڑھ سالہ شرجیل ماں کے حوالے کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے مزید سماعت آج تک کے لئے ملتوی کر دی۔ جمعرات کو مسماة امبر عابد کی جانب سے دائردرخواست کی سماعت کے موقع پر سابق وزیر قانون وصی ظفر نے دونوں بچے عدالت میں پیش کئے اور بتایا کہ ان کے بیٹے وقار وصی اور بہو امبر کے درمیان طلاق نہیں ہوئی بلکہ صرف علیحدگی کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ان سے استفسار کیا کہ کیاکوئی مفاہمت کا راستہ ہے۔ وصی ظفر کی جانب سے تکرار کرنے پر عدالت نے ان سے کہا آپ صبر کریں، آپ کسی ٹی وی ٹاک شو میں نہیں بلکہ عدالت میں ہیں۔ آپ نہ مقدمے میں فریق ہیں نہ آپ کا وکالت نامہ ہے۔ یہاں پر وزیر قانون کی کرسی تو نہیں البتہ عدالت کی کرسیاں موجود ہیں، آپ تشریف رکھیں۔ اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وقار وصی ظفر کو کہا وہ بچوں کے مستقبل اور اپنی زندگی کو پریشانیوں سے بچانے کے لئے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں اور اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے گھر سے لینے کے لئے خود جائیں۔ اگر آپ اپنی بیوی سے عزت اور وقار والا سلوک چاہتے ہیں تو آپ کو بھی اس کے والدین کو عزت دینا ہو گی۔ بعدازاں فاضل عدالت نے وصی ظفر کے بیٹے اور بہو کو چیمبر میں بھجوا دیا جس کے بعد فریقین نے عدالت کو بتایا کہ شام تک امبر وقار کو بتا دے گی کہ اس نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔ اس پر فاضل عدالت نے بچے ماں کے حوالے کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کر دی۔