نوازشریف نے کہا امریکہ پر بس چلتا ہے نہ ڈرون رکوا سکتا ہوں: سمیع الحق

نوازشریف نے کہا امریکہ پر بس چلتا ہے نہ ڈرون رکوا سکتا ہوں: سمیع الحق

اسلام آباد (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ)   مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں  پر زور دیا کہ وہ   سیاست مفادات سے بالاتر ہوکر پاکستان میں قیام امن کیلئے ایک بیچ  پر ہوجائیں۔ نواز شریف نے کہا کہ امریکہ پربس چلتا ہے، نہ ڈرون رکوا سکتا ہوں  حکومت اگر مذاکرات کیلئے مخلص نہیں تو  خود کشی کے مترادف ہے ، میرے لئے ’’طالبان کا باپ ‘‘کی اصطلاح مغربی میڈیا کا پروپیگنڈا ہے ، آل پارٹیز کانفرنس میں جہاد افغان کے مخالفین کو بلایا گیا ، مجھے نہیں ، نواز شریف نے  کہا کہ   فوجی آپریشن نہیں چاہتا ، طالبان ہماری روحانی اولاد ہیں ، افغانستان میں مصروف مجاہد طالبان کی بڑی تعداد ہمارے  شاگرد  ہیں ، اقوام متحدہ امریکہ کا دارالفتاء ہے ، مذاکرات کے نتائج راتوں رات نہیں ، کئی ہفتوں میں سامنے آئیں گے ، مولانا فضل الرحمن کی سیاست انڈر گرائونڈ ہے۔   نجی ٹی وی سے گفتگو  میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام مجھ سے مذاکرات کے حوالے سے اتنی توقعات وابستہ نہ کریں حکومت غلط بیانی کررہی ہے ،  طالبان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ۔ اگر یہ سوچا جائے کہ امریکہ کو ناراض نہیں کیا جاسکتا تو طالبان سے مذاکرات درست سمت کی طرف نہیں جاسکتے ۔ طالبان کے مطالبات پوری قوم کے مطالبات ہیں ۔ اگر مجھے ٹاسک دیا گیا تو تین باتیں حکومت کے سامنے رکھوں گا ، ایک یہ کہ مقتدر قوتیں ایک پیج پر آئیں ، خفیہ ادارے اپنا حقیقی معنوں میں کردار ادا کریں اور امریکہ کا اس بات کا قائل کریں کہ ہم اپنے گھر کی آگ کو بجھا کر ملک کو بے امنی سے پاک کرنا چاہتے ہیں ، آپ تعاون کریں اور ہمارے درمیان ہونیوالے معاہدوں کے وقت ڈرون نہ گرایا جائے ۔  میں نے نواز شریف سے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ میرے ساتھ صوفی محمد والا معاملہ نہ ہو جس پر انہوں نے واضح کیا کہ مجھ میں اور اوروں میں فرق ہے قطعاً فوجی آپریشن نہیں چاہتا ۔ طالبان سے مذاکرات ہی واحد حل ہے ، فوج ایک مقدس ادارہ ہے۔ اسے اس جنگ میں نہیں لانا چاہئے ۔  مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان کے حملوں میں کمی ان کی طرف سے اشارہ ہے اور خود کش حملوں میں کمی کی وجہ  یہ ہے کہ طالبان خود تھک چکے ہیں۔ ڈرون حملے بند کرنے کیلئے امریکہ کو مجبور کیا جاسکتا ہے۔ آئین پر عمل کریں، طالبان جمہوریت کو تسلیم کر لیں گے۔  اور حکومت کو ایک صف میں ہونا چاہئے علی حیدر گیلانی کو طالبان کے ایک گروپ سے دوسرے کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں آج بھی ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگ  اور بلیک واٹر موجود  ہے مذاکرات طالبان دھڑوں  سے نہیں شوریٰ سے ہوں گے  حکومت مذاکرات میں سنجیدہ  مگر بے بس بھی ہے۔