متحدہ وضاحت کرے: شاہ محمود‘ اصل ایجنڈا سامنے آ گیا: فضل الرحمن‘ مقتدر قوتیں نوٹس لیں: منور حسن

اسلام آباد+ پشاور (ایجنسیاں) تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو باہر بھجوانے کی باتیں ’’دال میں کچھ کالا کالا‘‘ کے مترادف ہیں۔ پس پردہ ڈیل کی قیاس آرائیاں تقویت پکڑ رہی ہیں، حکومت ابہام دور کرے اور قوم کو واضح حقیقت بتائے، غداری کیس کی بات بالاخر 12 اکتوبر 99ء تک جائیگی، سندھ کی تقسیم مسترد، ایم کیو ایم الطاف کے بیان کی وضاحت کرے۔ آج تقسیم سندھ کی بات کرنیوالے کل تقسیم پاکستان کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ ایم کیو ایم کو حقوق نہیں ملے تو گورنر سندھ 11 سال سے کیا کررہے ہیں؟ کالا باغ ڈیم کا ایشو مشترکہ مفادات کونسل میں زیرغور لایا جائے۔ سانحہ راولپنڈی کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے، فرقہ واریت کی ہوا بڑھتے بڑھتے دارالحکومت تک پہنچ گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری بھی انکے ساتھ تھیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پوری قوم الطاف حسین کی تقریر سے آگاہ ہے جو باعث تشویش ہے۔ ہم تقسیم سندھ کے مخالف ہیں، ہم سندھ کی یکجہتی کے حق میں ہیں، اگر سندھ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم مزاحمت کریں گے، 6 جنوری کی عمر کوٹ کی ریلی میں تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں تقسیم سندھ کیخلاف آواز بلندکرے گی۔ ہم مہنگائی، بیروز گاری کیخلاف اس ریلی میں احتجاج کریں گے۔ ایم کیو ایم ہمیشہ سے تقسیم سندھ کی مخالف رہی ہے، الطاف حسین کی تقریر واضح یوٹرن ہے، کسی بھی صوبے کی لسانی بنیادوںپر تقسیم درست نہیں ہے، سندھ کے عوام ابہام کا شکار ہیں۔ تحریک آزادی اور قیام پاکستان میں مہاجرین کا اہم کردار ہے، وہ پاکستان سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ایم کیو ایم 22 سال حکومتوں کا حصہ رہی ہے پھر وہ کس منہ سے حقوق کی بات کرسکتے ہیں۔ کراچی میں آپریشن کے دوران ایسی صورتحال تشویشناک ہے۔ کالا باغ ڈیم پر تحریک انصاف کا موقف واضح ہے، ہم صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر اس ڈیم کی حمایت نہیں کرسکتے۔ بھارت نے 1947ء کے بعد اب تک کئی نئے صوبے بنائے ہیں، پاکستان میں بھی انتظامی لحاظ سے آبادی اور وسائل کودیکھتے ہوئے نئے صوبے بننے چاہئیں، بلدیاتی الیکشن جیتنے کیلئے صوبے کا مطالبہ مناسب نہیں ہے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ تحریک انصاف بلدیاتی الیکشن جیتنے کیلئے مہنگائی کے نام پر ریلیاں نکال رہی ہے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فریقین آمادہ نہ ہوں تو صلح کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں، فوج اور طالبان اپنی اپنی بندوقیں رکھ دیں، علیحدہ ملک کی باتیں کرکے ایم کیو ایم نے اپنا اصل ایجنڈا سامنے لے آئی۔ امن مذاکرات کیلئے حکمت عملی کی تشکیل میں رکاوٹیں موجود ہیں۔ امن و امان ایک فرد کا مسئلہ نہیں، مستحکم حکمت عملی کیلئے تمام اداروں کو اکٹھا بیٹھنا ہو گا۔ وزیرستان میں امن کیلئے حکومت کو آمادہ کرنے کی کوشش کی، فوج اور طالبان اپنی اپنی بندوقیں رکھ دیں۔ الطاف حسین کے بیان پر فضل الرحمان نے کہا کہ علیحدہ ملک ایم کیو ایم کا اصل ایجنڈا ہے، لگتا ہے ٹائمنگ کچھ ٹھیک نہیں۔ پہلے سندھ میں لسانیت کی بات کی گئی اور اب بلدیاتی انتخابات پر علیحدگی کی باتیں کرنا مناسب نہیں۔ الطاف حسین کا علیحدہ صوبے اور ملک کا مطالبہ بے وقت کی اذان ہے، کوئی بھی محب وطن علیحدہ ملک کا مطالبہ نہیں کرسکتا، ریاست کے اندر ریاست بنانے کی باتیں ہمیں کسی بھی صورت قبول نہیں، تحریک طالبان نے مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کردی ہے لیکن مذاکرات کی راہ میں بین الاقوامی دباؤ رکاوٹ ہے، خیبر پی کے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ صوبے میں ایک این جی او کام کررہی ہے، پرویز مشرف کے بیرون یا اندرون ملک علاج کا فیصلہ ڈاکٹروں اور حکومت کو کرنا ہے۔ کوئی بھی محب وطن علیحدہ ملک کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا ہے کہ الطاف حسین تمام اردو بولنے والوں کی نمائندگی نہیں کرتے، اردو بولنے والوں نے کسی خاص صوبے کی طرف نہیں بلکہ اس پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی جس کی بنیاد ’’لاالہ الا اللہ‘‘ پر رکھی گئی تھی۔ اردو بولنے والے نظریاتی لوگ ہیں جو پاکستان کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ الگ صوبے کے بعد الگ ملک کی بات بھارتی ایجنڈا ہے جوخاص وقت پر خاص مقاصد کیلئے کی گئی ہے۔ الگ صوبے کا بیان الطاف حسین کا پہلا نہیں بلکہ اس سے قبل انکے درجنوں بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ مقتدر قوتوں کو الطاف حسین سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ انہیں الطاف حسین کی بلیک میلنگ میں آنے کی بجائے انکے بیانات کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ منورحسن نے کہاکہ مشرف کو بھگانے کی کوشش کرنیوالے پاکستان سے مخلص نہیں، وہ اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ غریب اور امیر کیلئے مختلف قانون ہیں۔ مسلم لیگ (ن )کے رہنما سردار ممتاز بھٹو نے الطاف حسین کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ کسی برطانوی شہری کا پاکستان توڑنے کا بیان مضحکہ خیز ہے۔ الطاف حسین کی فون پر آئے دن مسخری کے معاملے پر حکومت کو برطانیہ سے احتجاج کرنا چاہئے اور برطانیہ پر زور دینا چاہئے کہ وہ اپنے شہری کو پاکستان میں مداخلت کرنے سے روکیں۔