تحریک طالبان پاکستان کے 3 اہم گروپوں نے حکومت سے مذاکرات کی مخالفت کردی

اسلام آباد/ ریاض (آئی این پی) تحریک طالبان پاکستان کے تین اہم گروپوں نے حکو مت سے مذاکرات کی مخالفت کردی۔ افغان حکومت نے بھی نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد ملک میں پائیدار امن اور مستحکم حکومت کے قیام کیلئے سعودی عرب کی مدد سے تحریک طالبان افغانستان سے بامقصد مذاکرات کی کوششیں شروع کردیں۔ سعودی اور دیگر میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے تین اہم گروپوں نے حکو مت سے مذاکرات کی مخالفت کردی ہے تاہم ان میں سے صرف ایک مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ ان تین گروپوں میں ایک مولوی فضل اللہ کا گروپ ہے تاہم مولوی فضل اللہ کو امیر اس شرط پر بنایا گیا تھا کہ وہ بطور امیر ذاتی طور پر فیصلے نہیں کریںگے بلکہ طالبان شوریٰ کے اکثریتی فیصلے کی پابندی کریںگے اس لئے اب فضل اللہ کی مخالفت تقریباً بے معنی ہوچکی ہے کہ شوریٰ کی اکثریت مذاکرات کی حامی ہے۔ مذاکرات کے دوسرے دو مخالف عبد الولی مہمند عرف عمر خالد گروپ اور انصار المجاہدین ہیں جبکہ دوسری طرف افغان حکومت نے بھی نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد ملک میں پائیدار امن اور مستحکم حکومت کے قیام کیلئے سعودی عرب کی مدد سے تحریک طالبان افغانستان سے بامقصد مذاکرات کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت سابق مجاہد ین شوریٰ کے رہنما مولانا قیام الدین کشاف کی قیادت میں ایک 8 رکنی وفد، افغان طالبان سے حتمی مذاکرات کیلئے سعودی دارالحکومت ریاض میں موجود ہے۔ اس وفد میں افغان مصالحتی کمیشن او ر افغان علماء شوریٰ کے ایسے ارکان شامل ہیں جن کا افغان جہاد کے دوران سعودی حکومت خصوصی تعلق رہا ہے۔