اہلسنت و الجماعت کے رہنما مفتی منیر معاویہ، اسد محمود سپردخاک، شرکا جنازہ کا دھرنا

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) اسلام آباد کے علاقے سیکٹر آئی ایٹ تھری میں جمعہ کے روز موٹر سائیکل سوار 2 افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے اہلسنت و الجماعت کے مقامی سیکرٹری جنرل مفتی منیر معاویہ اور انکے ساتھی اسد محمود کو انکے آبائی علاقے ایبٹ آباد میں سپردخاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں ادا کی گئی جس میں اہلسنت و الجماعت کے رہنمائوں ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا مسعود الرحمن عثمانی، مولانا نذیر فاروقی، مولانا اشرف طاہر اور دیگر نے شرکت کی۔ نماز جنازہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے پڑھائی۔ اس موقع پر اہلسنت و الجماعت کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا اور ڈی چوک پر دھرنا دیا۔ مولانا مسعود الرحمن عثمانی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہلسنت رہنمائوں کو ملک بھر خصوصاً پنجاب میں چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے مگر حکومت خاموش ہے۔ مفتی منیر اور اسد محمود کے قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس موقع پر اہلسنت و الجماعت کی شوریٰ کی طرف سے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا اور مولانا عبدالرحمن سلطانی کو اہلسنت والجماعت اسلام آباد کا سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا۔ نماز جنازہ کے بعد دونوں رہنمائوں کی میتیں آبائی علاقے تحصیل باڑیاں ایبٹ آباد بھجوا دی گئیں۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری ڈی چوک کے اطراف میں تعینات تھی۔ دریں اثناء اسلام آباد پولیس اہلسنت والجماعت کے رہنمائوں کے قتل کا سراغ نہ لگا سکی۔ دریں اثناء اسلام آباد پولی اہلسنت والجماعت کے رہنمائوں کے قتل کا سراغ نہ لگا سکی۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے حملہ آوروں کی شناخت نہیں کی جا سکی تاہم وہ کار کا دیر تک پیچھا کرتے رہے اور موقع پا کر حملہ کیا۔ علاوہ ازیں اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ مفتی منیر معاویہ اور اسد محمود کا خون رائیگاں نہ جائیگا۔ آئندہ کے لائہ عمل کا اعلان 10 جنوری کو پیغمبر اسلام کانفرنس میں کیا جائیگا۔