پبلک اکائونٹس کمیٹی کے نجکاری سے متعلق بریفنگ پر تحفظات‘ قومی ادارے کوڑیوں کے بھائو بیچنے نہیں دینگے: خورشید شاہ

پبلک اکائونٹس کمیٹی کے نجکاری سے متعلق بریفنگ پر تحفظات‘ قومی ادارے کوڑیوں کے بھائو بیچنے نہیں دینگے: خورشید شاہ

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) قو می اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ  قومی اداروں کو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کر نے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیٹی نے نجکاری فہرست میں شامل اداروں کی نفع نقصان کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان سٹیل ملز کا خسارہ 106 ارب روپے تک پہنچ گیا، ہر ماہ سبسڈی کی مد میں 2 ارب روپے دیئے جا رہے ہیں، ان حالات میں پاکستان سٹیل ملز کو کوئی بھی خریدنے کیلئے تیار نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس کی ری سٹرکچرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ پی اے سی کا اجلاس خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سیّد نوید قمر، شیخ روحیل اصغر، شاہدہ اختر علی، سردار عاشق حسین گوپانگ، شفقت محمود اور رانا افضال حسین سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔  اجلاس میں نجکاری کمیشن کی جانب سے 31 سرکاری اداروں کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔  سیکرٹری نجکاری کمیشن نے پی اے سی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ  پی آئی اے، سٹیل ملز، پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، حبیب بینک کے بقیہ حصص سمیت 31 اداروں کی نجکاری کی جائے گی، حیسکو، فیسکو، آئیسکو، کوٹ ادو پاور کمپنی اور ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی بھی نجکاری کی جائے گی۔ پہلے مرحلہ میں پی آئی اے کے 26 فیصد جبکہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے 96 فیصد حصص کی نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نجکاری بورڈ کسی بھی ادارے کی نجکاری سے متعلق فنانشل ایڈوائزر کی رپورٹ کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سٹیل ملز کو خریدنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے اس لئے حکومت نے اس کی ری سٹرکچرنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی اے سی کے ارکان نے نجکاری کے حوالہ سے بر یفنگ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین خورشید شاہ نے کہا کہ نجکاری کی وجوہات نظر نہیں آ رہیں، ملک کو کیا فائدہ ہو گا، ایسے ادارے پرائیویٹائر ہو رہے ہیں جو حکومت کو کما کر دے رہے ہیں۔ ثنا ء نیوز  کے مطابق آڈیٹر جنرل آ ف پاکستان کے باربار سوالات کے باوجود وفاقی  سیکرٹری نجکاری حکومتی نجکاری پالیسی بارے بتانے میں ناکام ہوگئے۔  دونوں اعلی سرکاری افسران توتکار ہوگئی سیکرٹری نجکاری امجد علی خان نے  قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں انکشاف کیا کہ نج کاری کمیشن کے پاس اکتیس اداروں کی نج کاری کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے، بائیس کنسلٹنٹس  کی بجائے صرف چھ ہیں تاحال  فنانشل ایڈوائزر ز کا تقرر ہی نہیں  ہو سکا ہے، اکتیس میں سے پندرہ اداروں کے سو فیصد حصص فروخت کر دیں گے تاہم سٹیل ملز کی نج کاری سے قبل اس کی تنظیم نو ہوگی،  پی اے سی نے نج کاری بورڈ میں شامل تمام افراد کی تعلیمی قابلیت، تجربے، سیاسی وابستگیوں سمیت تمام ریکارڈ آئندہ اجلاس میں مانگ لیا جبکہ نج کاری سے متعلق سیکرٹری کی بریفنگ پر بھی عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے  انتباہ کیا گیا ہے کہ  آئین سے ہٹ کر نج کاری کی گئی تو عدالت میں چیلنج ہوجائے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم حکومت کی نجکاری پالیسی کے خلاف نہیں نہ ہی اسے چیلنج کرینگے مگر نج کاری کا عمل شفاف نہ ہوا تو ملکی خزانے کو نقصان ہو گا، پہلے غیر منافع بخش اداروں کی نج کاری کی جائے۔ آن لائن کے مطابق پبلک اکائونٹس کمیٹی نے وزارت نجکاری کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نجکاری کمیشن کے بورڈ ممبران کی مکمل معلومات نجکاری کی فہرست میں شامل  اداروںکی نفع اور نقصان کے حوالے سے مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ سیکرٹری نجکاری کمیٹی کو نجکاری پالیسی کے حوالے سے  جواب نہ دے سکے  جبکہ تحریک انصاف نے  حکومت کی نجکاری پالیسی کی کھل کر حمایت کر دی۔ تحریک انصاف کے  رکن  و رکن کمیٹی شفقت محمود نے کہا کہ حکومت کا کام ملک چلانا ہے کاروبار کرنا نہیں ہونا چاہئے۔ چند سٹرٹیجک سیکٹر کے علاوہ باقی کی نجکاری ہونی چاہئے۔