قائمہ کمیٹی سینٹ نے حکومت سے نامکمل منصوبوں کی تفصیلات مانگ لیں

قائمہ کمیٹی  سینٹ نے حکومت سے نامکمل منصوبوں کی تفصیلات مانگ لیں

اسلام آباد (آئی این پی + آن لائن) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ نے وفاقی حکومت سے مالی سال برائے 2013-14ء کے ترقیاتی بجٹ میں شامل 115ارب سے صوابدیدی فنڈ کی تفصیلات طلب کر لیں، قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر پلاننگ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تاخیر کا شکار ہونے والے ترقیاتی منصوبوں، آئی ایم ایف کی شرائط کے ملکی معیشت پر اثرات اور قومی محاصل میں صوبوں کو جاری کئے جانے والے فنڈز اور وفاقی حکومت کے نان ٹیکس ریونیو کے بارے میںرپورٹ پیش کی جائے، چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ اور وفاقی سیکرٹری خزانہ کو طلب کیا ہے اور  کسی صوبے سے نا انصافی نہیں وہنے دیں گے، قومی ترجیحات میں دہشت گردی کے مسئلے کو سب سے اوپر لایا جائے، ترقیاتی بجٹ میں شامل 115 ارب کے صوابدیدی فنڈ بارے شکوک و شبہات ہیں ، وفاقی حکومت سے ایکنک کے گزشتہ 8 ماہ کے دوران ہونے والے اجلاسوں کی کارروائی  کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کا اجلاس چیئرمین رحمن ملک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال نے قائمہ کمیٹی کے اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبے تو کافی بنتے ہیں مگر ان پر درست طریقے سے عملدرآمد نہیں ہوتا۔ پاکستان کو دس سال بعد شدید آبی قلت کا سامنا ہو گا۔ اس حوالے سے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین رحمن ملک نے کہا کہ ملکی ضروریات اور دستیاب وسائل میں بہت زیادہ فرق ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے۔ آن لائن کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات نے  و زارت سے تمام نامکمل منصوبوں کی تفصیلات طلب کر لیں، کمیٹی نے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ ایسے منصوبے جو منظور کیے گئے اور ان کیلئے فنڈز بھی میسر تھے انکے مکمل نہ ہونے کے بارے میں تمام معلومات کمیٹی کو  فراہم کی جائیں تاکہ کمیٹی تجاویز دے سکے۔