عتیق الرحمن لاپتہ کیس: ہمیں مثبت پیشرفت چاہئے‘ پولیس کے بغیر کوئی جرم ہونا ممکن نہیں: جسٹس عظمت سعید

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں عتیق الرحمن لاپتہ کیس میں پولیس حکام کو سخت سرزنش کرتے ہوئے مقدمے میں مثبت پیشرفت بارے رپورٹ طلب کی ہے‘ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس حکام جان بوجھ کر سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں‘ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں کہ جس میں اس قدر وقت لگا دیا جائے‘ پولیس اگر صحیح کام کرے تو گھنٹوں میں نوجوان کو بازیاب کرایا جا سکتا ہے‘ پولیس کے بغیر کوئی جرم ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس گذشتہ روز دیئے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں آئی ایس آئی اور ایم آئی نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ عتیق الرحمن کے اغوا میں ملوث ہیں نہ ہی انہیں اس بارے کوئی علم، لاپتہ افراد کے کمیشن نے اپنے 13 دسمبر 2013ء کے آرڈر میں کہا ہے کہ بادی النظر میں یہ کیس زبردستی لاپتہ کئے جانے کا ہے اور یہ حکم آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ کرنل عبدالمناف کہوٹ‘ ایم آئی کے نمائندے لیفٹیننٹ کرنل مجید اور آئی بی کے نمائندے عتیق ارشد کی موجودگی میں جاری کیا تھا۔ انہوں نے یہ رپورٹ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے روبرو منگل کو پیش کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ڈی پی او رپورٹ اور عبدالواحد تبسم کا بیان کمشن کے احکامات کی توثیق کرتا ہے۔ یہ سب مواد ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے وزارت دفاع کو مہیا کیا اور انہیں کہا کہ آپ ازسرنو ایک جامع تحقیقات کریں۔ حساس اداروں نے لاپتہ افراد کے کمشن اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے یہ موقف رکھا کہ انہیں مزید کچھ وقت درکار ہے تاکہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر سکیں۔ جسٹس عظمت سعید نے پولیس حکام سے کہا کہ ہمیں مثبت پیشرفت چاہئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ جامع تحقیقات کے لئے مزید دو ہفتے کا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی۔