متحدہ سے دوستی، ممنون کو صدر بنانے پر مسلم لیگ ن سندھ کی قیادت کے شدید تحفظات

اسلام آباد (آن لائن) ایم کیو ایم کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے اور ممنون حسین کو صدر بنانے کے بعد نہ صرف (ن) لیگ کی صوبائی سینئر قیادت شدید دباﺅ کا شکار ہے بلکہ ممتاز بھٹوا ور دیگر قوم پرست اتحادی بھی ہاتھ سے جاتے دکھا ئی دے رہے ہیں، اگرچہ سندھ کی ن لیگ میں فوری طور پر کسی بھی بغاوت کو روک دیا گیا ہے تاہم خدشہ ہے کہ گورنر کے حوالہ سے کوئی بھی غیر محتاط فیصلہ ایک بار پھر ہلچل مچا سکتا ہے کیونکہ نہ صرف ممتاز بھٹو راہیں الگ کرنے کا سوچ رہے ہیں جنہیں وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں جا کر اپنے ساتھ ملایا تھابلکہ مسلم لیگ ن میں بھی توڑ پھوڑ ہو سکتی ہے۔ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ مسلم لیگ(ن) کے وفد کے نائن زیرو کے دورے میں بھی یہ بات شدت سے محسوس کی گئی تھی کہ وفد میں مسلم لیگ (ن) سندھ کا کوئی اہم رہنما یا منتخب رکن شامل نہیں تھا بلکہ مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیاتھا ۔سخت رد عمل ظاہر کرنے والوں میں غوت علی شاہ ،ممتاز بھٹو،لیاقت جتوئی ،وزیر مملکت برائے ریلوے عبد الحکیم بلوچ ،ارکان سندھ اسمبلی عرفان اللہ مروت ،ہمایوں خان اور دیگر شخصیات شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ29 جولائی کو لیاقت جتوئی کی رہائش گاہ پراجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم مرکزی قیادت کے رابطے اور بعض یقین دہانیوں کے بعد معاملے کو وقتی طور پر دبا دیا گیا ۔البتہ 30 جولائی کو صدارتی انتخاب سے قبل عرفان اللہ مروت نے سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیاتھا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ باہمی تعاون پر مسلم لیگ (ن) کے اندر شدید تحفظات ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ممتاز بھٹو نے 3 روز قبل اپنی سابقہ جماعت سندھ نیشنل فرنٹ کے رہنماﺅں سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کے اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اشارہ دیا کہ اگر چند روز میں ان کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو وہ اپنی راہیں جدا کرسکتے ہیں ۔یاد رہے کہ عہدہ صدارت کے لئے ممتاز بھٹو اور سید غوث علی شاہ اپنے آپ کو حتمی امید وار سمجھ رہے تھے لیکن وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ممنون حسین کو صدر مملکت بنا کر نہ صرف اس عہدہ کے حوالہ سے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے بلکہ اب نصف درجن سے زائد رہنماﺅں کی نظریں گورنر ہاﺅس پر ہیں لیکن ایم کیو ایم کے ساتھ مفاہمت سے گورنری بھی ہاتھ سے نکلتی دیکھ رہے ہیں۔