پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج ہو گا‘ صدر زرداری خطاب کرینگے

اسلام آباد (نامہ نگار+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ ایجنسیاں) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج (پیر) شام پانچ بجے پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوگا جس سے صدر آصف علی زرداری خطاب کرینگے‘ صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد صدر کا مشترکہ اجلاس سے تیسرا خطاب ہے جس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کا تیسرا پارلیمانی سال بھی شروع ہو جائےگا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں صدر کے خطاب کے حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اجلاس کی صدارت کرینگی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری اپنے خطاب میں 17ویں ترمیم کے خاتمے اور 18ویں ترمیم کی منظوری کے حوالے سے اپنی حکومت کی ترجیحات بیان کرینگے اور ان کے اس خطاب کے بعد پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کا عمل شروع کرے گی۔ مشترکہ اجلاس کی کارروائی دیکھنے کےلئے صوبائی گورنرز‘ وزرائے اعلیٰ‘ صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر‘ مسلح افواج کے سربراہان‘ پاکستان میں مقیم غیرملکی سفارتکاروں اور بیورو کریسی کے اعلیٰ افسران کو دعوت نامے بھجوائے گئے ہیں۔ سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے ہیں مشترکہ اجلاس میں مہمانوں کا داخلہ بند ہو گا۔ ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ بلاول بھٹو زرداری‘ آصفہ اور بختاور بھی صدر کے خطاب کے موقع پر مہمانوں کی گیلری میں موجود ہونگے۔ علاوہ ازیں میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی کل (منگل) کو طلب کرلئے ہیں۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ صدر آصف زرداری آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اہم خطاب میں 1973ء کے آئین کی اصل حالت میں بحالی کا اعلان کرینگے اور تمام قومی و بین الاقوامی ایشوز پر بھی بات کرینگے۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں‘ ریڈ زون میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ شاہراہ دستور عام ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند ہو گی‘ پارلیمنٹ کے باہر ایف سی اور رینجرز کے اہلکار تعینات کئے جائیں گے جبکہ ہیلی کاپٹروں سے فضائی نگرانی کی جائے گی۔ بی بی سی کے مطابق صدر زرداری کے خطاب کے اگلے روز منگل کو قومی اسمبلی اور سینٹ کے اہم اجلاس میں آئینی اصلاحات پر مشتمل 18ویں ترمیم کے بل پر بحث ہو گی۔صدر کے پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر ٹریفک کا رش کم رکھنے کی غرض سے ارکان پارلیمنٹ کیلئے خصوصی شٹل سروس چلائی جائے گی‘ ہیلی کاپٹروں سے پارلیمنٹ ہاﺅس اور اسلام آباد کی فضائی نگرانی کی جائیگی‘ ریڈیو پاکستان صدر کا خطاب 33زبانوں میں نشر کریگا۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دیدیا ہے۔