زرداری کو مشورہ دیا تھا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ کیا تو وہ مشکل میں گھر جائیں گے : انور منصور

اسلام آباد (وقت نیوز) سینئر قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ ان کی تقرری کے حوالے سے وزیر قانون بابر اعوان نے ریمارکس دیئے تھے کہ میرے اٹارنی جنرل آگئے ہےں اب بہت اچھا کام ہوگا، انہوں نے کہا کہ وہ اس جملے پر چونک گئے اور انہوں نے وزیر قانون کو یہ باور کرایا کہ اٹارنی جنرل آئین کا ہوتا ہے حکومت کا نہیں، اس وضاحت کے بعد انہوں نے یہ بات محسوس کی کہ بابر اعوان شائد ان سے ناراض ہوگئے ہےں۔ وقت نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر زرداری کو مشورہ دیا تھا کہ اگر انہوں نے این آر او کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر عمل نہ کیا تو وہ مشکل مےں گھر جائیں گے لیکن ایک بار پھر بابر اعوان بیچ مےں آگئے اور صدر زرداری کے ذہن مےں اس کے برعکس سوچ پیدا کر دی۔ انہوں نے سوئس عدالت کو لکھے گئے خط کے بارے مےں اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خط پہلے وزارت خارجہ جائے گا جہاں مضمون کو اچھی طرح چیک کیا جائے گا کہ کہیں یہ خط خارجہ پالیسی کے خلاف تو نہیں کیونکہ یہ دو ممالک کے پروٹوکول کے تحت لکھا جاتا ہے۔ اس تمام عمل مےں ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت درکار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر زرداری کو سوئس عدالتوں سے سزا ہو بھی گئی تو اس کے باوجود وہ اپنی مدت پوری کر سکتے ہےں جب تک ان کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب نہ ہو جائے وہ صدر رہ سکتے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت قانون مےں جو ڈپٹی اٹارنی جنرل اور دیگر سٹاف موجود ہے اس کے ذمہ کوئی اہم کام سپرد نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہے بلکہ ان مےں قانون کو سمجھنے کی صلاحیت بہت کم ہے اسی وجہ سے ان کو اوسطاً بیس گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ وقت کے ناظرین ان کا یہ انٹرویو آج شام سات بج کر پانچ منٹ پر دیکھ سکتے ہےں۔