احمد ریاض ترقی کیس: وزارت داخلہ کسی جونیئر افسر کو ذمہ دار ٹھہرانے کےلئے تیار

اسلام آباد (اےن اےن آئی) اےف آئی اے کے سابق اےڈےشنل ڈی جی احمد رےاض شےخ کی ترقی رکوانے کے سلسلے مےں وفاقی وزارت داخلہ سابق ڈی جی اےف آئی اے طارق کھوسہ کی طرف سے لکھے جانے والے خط کوغائب کرنے کا بہانہ بنا کر اس کاذمہ دار کسی جونئےر افسر کو ٹھہرانا چاہتی ہے حالانکہ حقےقت مےں احمد رےاض شےخ کو ترقی دلوانے مےں وزارت داخلہ کے اےڈےشنل سےکرٹری محمد احسن راجہ سمےت اہم حکومتی عہدےداروں نے اہم کردار ادا کےا، سرکاری ذرائع کے مطابق طارق کھوسہ کا خط اےڈےشنل سےکرٹری داخلہ نے وصول کےا جو وزارت داخلہ کی ڈائری مےں درج ہے جبکہ سنٹرل سلےکشن بورڈ کے اجلاس مےں احمد رےاض کی پیش کردہ فائل مےں نہ صرف اےن آر او پر عدالتی فےصلے کا ذکر تھا بلکہ ےہ بھی درج تھا کہ مذکورہ افسر اےن آر او کے تحت نوکری پر بحال ہوئے تاہم احسن راجہ نے اجلاس مےں احمد رےاض شےخ کو اےن آر او سے ملنے والے رےلےف کا تذکرہ تک نہ کےا، اس کے بعد احمدرےاض کو بغےر کسی اعتراض کے گرےڈ انےس سے بےس مےں ترقی دےنے کی سفارش کی گئی اور جب ےہ سفارشات حتمی منظوری کے لئے وزےر اعظم گےلانی کے سامنے رکھی گئےں تو انہوں نے بھی سفارشات پر دستخط کر دےئے جس سے احمد رےاض کی اگلے گریڈ مےں ترقی ہوگئی۔ بعدازاں سپرےم کورٹ کے ازخود نوٹس پر ان کی نہ صرف تنزلی کی گئی بلکہ نوکری سے فارغ کر کے جےل بھےج دےا گےا۔