لیگل فریم ورک کے بغیر بلدیاتی الیکشن نہیں کرا سکتے ۔۔ چیف الیکشن کمشنر

 لیگل فریم ورک  کے بغیر بلدیاتی الیکشن نہیں کرا سکتے ۔۔  چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد (ایجنسیاں) پنجاب کے سوا تین صوبے جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار ہیں، بلدیاتی انتخابات کے تمام میکنزم کو حتمی شکل دینے کیلئے وفاق اور صوبوں کی سطح پر پانچ کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں جو الیکشن کمش کے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کریں گی، اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو بریفنگ دی گئی۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں وفاق اور صوبوں کے ساتھ اجلاس کے بعد سیکرٹری الیکشن کمشن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاق اور صوبے اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات ہونے چاہئیں۔ پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں بلدیاتی قوانین بھی تیار کر لئے ہیں جبکہ بلدیاتی نظام کے قوانین کے حوالے سے پنجاب کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ خیبر پی کے کی حکومت نے ضلعی سطح پر جماعتی جبکہ یونین کونسل کی سطح پر غیر جماعتی انتخابات کرانے کا فارمولہ پیش کیا ہے۔ چاروں صوبوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دسمبر کے پہلے ہفتے تک وہ الیکشن کمشن سے بلدیاتی انتخابات کرانے کی درخواست کریں گے، جس کے بعد بلدیاتی انتخابات کیلئے الیکشن کمشن کو 30 دن درکار ہوں گے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ عام انتخابات کیلئے 20 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے تھے جبکہ بلدیاتی انتخابات کیلئے 60 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے جائیں گے۔ اجلاس میں ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات ایک روز میں کرانے یا نہ کرانے کا بھی جائزہ لیا گیا، بلدیاتی انتخابات کے لئے تمام میکنزم کو حتمی شکل دینے کیلئے وفاق اور صوبوں کی سطح پر پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو 22 اکتوبر کو الیکشن کمشن کے ایک اور اجلاس میں رپورٹ پیش کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ صوبوں کے لیگل فریم ورک میں بلدیاتی انتخابات کا قانون، انتخابی قواعد، حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن شامل ہے، اس کے بغیر بلدیاتی الیکشن نہیں کرا سکتے۔ صوبے بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنا لیگل فریم ورک مکمل کریں۔ بلدیاتی انتخابات کا مقصد اختیارات عوام کو منتقل کرنا اور فیصلوں میں شامل کرنا ہے۔ الیکشن کمشن جامع لیگل فریم ورک کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کرواتا ہے تاہم بلدیاتی انتخابات کے لئے صوبوں کی جانب سے لیگل فریم ورک ابھی الیکشن کمشن کو نہیں ملے۔ حلقہ بندیوں کی بنیاد نئے شماریاتی بلاکس پر ہونی چاہئے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری سندھ اور پنجاب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے قانون کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہیں تاہم تمام صوبے قوانین، حلقہ بندیوں اور قواعد کا کام مکمل کر کے دسمبر کے پہلے ہفتے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے درخواست بھیجیں گے۔