طالبان کے ساتھ ایمانداری سے مذاکرات کامیاب کرنے کی کوشش کی جائے، ملٹری آپریشن آخری حربہ ہے ۔۔ عمران خان

طالبان کے ساتھ ایمانداری سے مذاکرات کامیاب کرنے کی کوشش کی جائے، ملٹری آپریشن آخری حربہ ہے ۔۔ عمران خان

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ ایمانداری سے مذاکرات کامیاب کرنے کی کوشش کی جائے، ملٹری آپریشن آخری حربہ ہے مذاکرات  ناکام ہونے کی صورت میں ساری قوم پیچھے کھڑی ہو گی، ڈرون حملوں کا معاملہ سکیورٹی کونسل میں اٹھایا جائے ورنہ امریکہ جب چاہے مذاکرات ختم کرا سکتا ہے، مذاکرات کیلئے سٹرکچر بنایا جائے ، پتہ چل جائیگا جو لوگ مذاکرت نہیں چاہتے وہ دشمن کے کہنے پر پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی ہوئی ہے، شدید احتجاج کرینگے، چیئرمین نیب کی تقرری اتفاق رائے سے کی جائے، سابق صدر کی بہن پی اے سی کی سربراہ ہونگی تو کیا احتساب ہو گا، سابق صدر کیخلاف سوئس مقدمات کھولنا (ن) لیگ کے ایجنڈے میں تھے قوم اسکی منتظر ہے، کراچی میں اس وقت تک امن نہیں ہو گا جب تک سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کیخلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی۔ جمعرات کو کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک ، سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین اور مخدوم جاوید ہاشمی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں اہم معاملات پر بات کی گئی وفاقی حکومت نے بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر ڈرون حملہ کیا ہے پہلے ہی لوگوں کا گزارہ بہت مشکل ہو رہا ہے سب اشیاء کی قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں ملکی تاریخ میں پہلے کبھی اتنی قیمتیں نہیں بڑھیں، لوگوں کا معاشی قتل ہو چکا ہے عوام مہنگائی کیخلاف سڑکوں پر آنے کیلئے تیار ہیں تحریک انصاف مہنگائی کیخلاف شدید احتجاج کرے گی حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر یہ تحفہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈالر ایک روپیہ گرتا ہے تو اس سے قرضوں میں 70 ارب روپے اضافہ ہو جاتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے حکومت نے نو ہزار ارب کے قرضے بنکوں سے لئے ہیں ایک روپیہ گرنے سے نو سو ارب قرضوں میں اضافہ ہوجاتا ہے دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ عوام کے ذریعے پیسہ اکٹھا کیا جائے ہمیشہ ان پر ٹیکس لگایا جاتا ہے جو دے سکتے ہیں، نادرا کے پاس 30 لاکھ افراد کا ڈیٹا موجود ہے ان کو کوئی نہیں پکڑتا بیرون ملک پڑے ہوئے پیسے کو کوئی واپس لانے یا ان پر ٹیکس کی وصولی کیلئے کوشش نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک نے 25 ملین ڈالر چوری سے باہر لیجانے کا بتایا ہے پھر اس پیسے کو بینکوں کے ذریعے وائٹ کیا جاتا ہے پیسہ اکٹھا کرنے کیلئے حکومت نے عوام پر مہنگائی کا جو بوجھ ڈالا ہے ہم عوام کے ساتھ ہیں اور شدید احتجاج کریں گے سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے جو اچھی بات ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے چوری پکڑی جائے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں امن کو موقع دینے پر اتفاق کیا تھا وہ لوگ جو امن نہیں دیکھنا چاہتے وہ ملک کے دشمن ہیں کئی گروپ ہیں جنہیں باہر سے پیسہ آ رہا ہے وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مذاکرات کو سبو تاژ کیا جائے سب سے زیادہ امن کی بات کرنے والے صوبے پر حملے ہو رہے ہیں جب مذاکرات شروع ہونگے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور پتہ چل جائیگا کہ جو مذاکرات نہیں چاہتے وہ دشمنوں کے کہنے پر پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت اخبارات کی بجائے طالبان سے بات چیت کا سٹرکچر بنائے ہمیں صرف اخبارات کے ذریعے پتہ چلتا ہے ایسے مذاکرات کو توڑنا آسان ہوتا ہے تین دھماکے اور ہو گئے تو ساری قوم کہے گی کہ ان کو مارو۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ڈرون حملوں کا معاملہ سکیورٹی کونسل میں اٹھایا جائیگا اے پی سی کے بعد چار ڈرون حملے ہو چکے ہیں لیکن حکومت سکیورٹی کونسل میں کیوں نہیں جا رہی اس طرح تو امریکہ جب چاہے ڈرون حملہ کر کے مذاکرات ختم کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ملٹری کا آخری آپشن سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے پہلی دفعہ پاکستان کی سیاسی حکومت فاٹا میں مذاکرات کر رہی ہے اس سے پہلے کبھی سیاسی جماعت نے بات نہیں کی ہے ان مذاکرات کو کامیاب کرنے کی کوشش کی جائے اگر بات چیت ناکام ہوتی ہے تو آخری حربے کے استعمال پر ساری قوم پیچھے کھڑی ہو گی مگر اس سے پہلے پوری ایمانداری سے کوشش کی جائے کہ مذاکرات کو کامیاب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دوسری بڑی جماعت ہے چیئرمین نیب کیلئے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اتفاق رائے سے چیئرمین نیب بنایا جائے اگر پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہ سابق صدر کی بہن ہونگی تو پھر گزشتہ کرپشن کون پکڑے گا گزشتہ حکومت 12 ارب کی روزانہ کی کرپشن کرنے والے پی اے سی کے ہیڈ ہونگے تو پھر کیا احتساب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں گزشتہ دور حکومت میں 170 دھماکے ہوئے کراچی میں 20 ہزار لوگ مارے گئے لیکن کسی کو نہیں پکڑا گیا ہمیں موقع دیا جائے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف گیس کی قیمتوں میں اضافے کی شدید مخالف ہے کیونکہ ہمارے صوبے کی انڈسٹری پہلے ہی بند پڑی ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مہنگائی کو قابو کرنے کیلئے پیسے والے لوگوں پر ٹیکس لگایا جائے چور دروازے بند کئے جائیں حکومت بیرون ملک پڑے ہوئے پیسوں پر تحقیقات کیوں نہیں کرتی انہوں نے کہا کہ ہم نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے اس کا کام صوبے کو پچانا ہے پولیس دہشتگردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی وفاقی حکومت کو اس پر سنجیدہ ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے دفتر کھولنے پر مجھے بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن ایک فورم ہونا چاہئے تاکہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والوں کو مشکل ہو۔ بات چیت شروع ہو تو سب سے پہلے سیز فائر ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری پر سوئس مقدمات کھولنا مسلم لیگ (ن) کے ایجنڈے میں تھا اب قوم اس کی منتظر ہے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے کا کوئی حل نہیں 9 سال کسی اور کے کہنے پر ملک میں تباہی کی گئی امریکہ کے غلام اب بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کو مارو پہلی دفعہ حکومت کہہ رہی ہے کہ امن کو موقع دیا جائے ہم وفاقی حکومت کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہیں انہوں نے کہا کہ کراچی کے اندر جن جماعتوں کے سیاسی ونگ ہیں ان کیخلاف جب تک سخت کارروائی نہیں کی جاتی وہاں پر امن قائم نہیں ہو گا اور بد امنی میں اضافہ ہو گا۔ لندن (آن لائن) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر تحریک طالبان کے ساتھ 2 ماہ میں مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ان کیخلاف آپریشن کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی اخبار گارڈین کو اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ نومبر کے وسط یا آخر میں ہمیں یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ کام نہیں کررہے اگر طالبان کی جانب سے دئیے گئے مطالبے پورے نہیں ہو سکتے تو اس صورت میں ایک مکمل ڈیڈ لاک پیدا ہو سکتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ 2 ماہ میں ان سب باتوں کا پتہ چل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات واضح ہو جائے کہ بات چیت صحیح سمت میں نہیں جا رہی تو وہ وزیرستان میں آپریشن کی حمایت کریں گے، عمران خان نے کہا کہ میں جنگ مخالف ہوں اور میں فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا تاہم آخر میں ہمارے پاس تو آپشن نہیں بچتا تو میں آپریشن کرنے والوں کے ساتھ ہوں گا۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے حوالے سے کہا کہ عسکریت پسندوں کے گروپوں کے پھیلاؤ کا مطلب ہے کہ ان کے لئے کوئی آسان حل موجود نہیں جو کہ اس وقت14سے18بڑے گروپوں اور تقریباً 20 سے25 چھوٹے گروپوں پر مشتمل ہیں اور یہ ایک گندگی ہے اور یہ واضح ہے کہ یہ گروپس امن نہیں چاہتے اور انہیں ملکی امداد بھی حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ خونریزی کے پیچھے کونسا گروپ ہے تاہم ماضی حکومت کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں ان حملوں کے پیچھے غیر ملکی عناصر کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔