آئی ایس آئی کے سول ملازمین ترقی کیس اسلام آباد ہائیکورٹ نے خارج کر دیا

آئی ایس آئی کے سول ملازمین ترقی کیس اسلام آباد ہائیکورٹ نے خارج کر دیا

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کے سول ملازمین کی ترقی و تبادلے کے حوالے سے دائر رٹ پٹیشن خارج کردی ہے۔ عدالت عالیہ نے درخواست گزاروں کو فیڈرل سروسز ٹریبونل سے رجوع کر نے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس محمد انور خان کاسی نے آئی ایس آئی کے 34 سول افسران و اہلکاروں کی طرف سے دائر پٹیشن کی سماعت کی۔ حساس ادارے کے سویلین افسروں اور اہلکاروں نے برسہا برس ایک ہی گریڈ میں رکھے جانے اور ترقی نہ دئیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں رواں برس جون میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔ گزشتہ روز آئی ایس آئی کے وکیل خرم ہاشمی نے مؤقف اختیار کیا سویلین اہلکاروں کی نوکری کے معاملات ایسٹا کوڈ  اور سول سروسز ایکٹ کی دفعہ 2کے تحت دیکھے جاتے ہیںجبکہ سویلین ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی ڈیفنس ڈویژن کے ذریعے کی جاتی ہے۔ انہوں نے فاضل عدالت سے درخواست کی مذکورہ ملازمین کو آئین کی دفعہ 212کے تحت ایف ایس ٹی میں جانے کی ہدایت کی جائے۔ اس سوال پر کہ ملازمین کی ترقی کا کیامعیار ہے خرم ہاشمی کا کہنا تھا آئی ایس آئی کے ملازمین حساس ڈیوٹی پر ہیں، دہشت گردی کا خطرہ ہے اس لئے معلومات عام نہیں کرسکتے انہوںنے عدالت کے روبرو ایک حساس دستاویز بھی پیش کی ۔اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکیل ریحان الدین گولڑہ نے کہا میرے موکلوں کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے اور ان کی ترقی کئی برسوں  سے رکی ہوئی ہے۔ فاضل عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کچھ دیر کے لئے محفوظ کر لیا ۔ بعد میں عدالت نے درخواست گزاروں کو ایف ایس ٹی سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست خارج کردی ہے۔