اس سینیٹر کا نام بتایا جائے جس کی گاڑی لڑکی کے اغواءمیں استعمال ہوئی‘ چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں بااثر افراد کی جانب سے ایک غریب شخص کوقتل کر کے اس کی بھتیجی کو زبردستی اغواکرنے سے متعلق مقدمہ کی سماعت میں عدالت نے ڈی آئی جی کو ملزمان کی گرفتاری اور لڑکی کی بازیابی کا حکم دیتے ہوئے سماعت 9اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔ جمعرات کو چیف جسٹس افتخارمحمد چودھر ی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت جعفرآباد کے سابق ڈی پی او جاوید شاہ اور متعلقہ ایس ایچ او سے استفسارکیاکہ جب ان کو واقعہ سے قبل شکایت کی گئی تو انہوں نے ملزمان کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی اورکیا واقعہ کے فورًا بعد ناکہ بندی کی گئی تھی اگر ناکہ بندی کی جاتی تو ملزمان گرفتارہونے کے ساتھ مغویہ کو بھی برآمد کیا جا سکتا تھا لیکن ڈی پی او بااثر ملزمان سے ملاہوا ہے عدالت کواس سینیٹر کا نام بتایا جائے جس کی گاڑ ی کارروائی کیلئے استعمال کی گئی۔ جاوید شاہ نے کہاکہ انہوں نے واقعہ کے بعد مختلف راستوں پر ناکہ بندی کی تھی لیکن ملزمان عام راستوں کی بجائے غیر معروف راستوں کے ذریعے نکل گئے۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ وہ یا تو ملزمان عدالت کے روبرو پیش اور مغویہ کو بازیاب کرائیں ورنہ ان کویہاں سے سیدھا جیل بھیج دیا جائے گا۔ ڈی پی او ملزموں سے ملا ہوا ہے اسے پتہ ہے کہ ملزم کہاں ہیں اور مغویہ کوکہاں رکھاگیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ واقعہ میں کوئی سینیٹر شریک نہیں تھا بلکہ صرف اس کاکارڈ استعمال کیا گیا۔ چیف جسٹس نے ڈی آئی جی رینج سے کہا کہ ڈی پی اوکو یہاں سے حراست میں لیا جائے اورجب تک ملزم پکڑے نہ جائیں اس حراست میں رکھا جائے تاہم ڈی آئی جی نے کہا کہ ان کو تھوڑی سی مہلت دی جائے ملزمان جہاں بھی ہوں چاہے افغانستان میں کیوں نہ ہوں ڈی پی اور ایس ایچ او کوان کے پیچھے اس وقت تک دوڑایاجائے گا جب تک وہ گرفتاراورلڑکی بازیاب نہیں ہوتی جس پرعدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے جعفرآبادکے موجودہ ڈی پی اورکودونوں کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی۔