پاکستان میں اب تک صرف ایک سیاسی جماعت نیپ پر بھٹو دور میں پابندی لگی

اسلام آباد (جاوید صدیق) الطاف حسین کے فوج اور اسکی قیادت کیخلاف بیان کے بعد مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے اس جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اب تک ایک سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر 1973ءمیں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پابندی لگائی گئی تھی۔ نیپ کے سربراہ خان عبدالولی خان اور دوسرے لیڈروں کیخلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نیپ پر پابندی عائد کی تھی۔ نیپ پرپابندی کے بعد نیپ کے سرحد اور بلوچستان کے لیڈروں نے باہمی مشاورت سے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بنالی تھی۔ نیپ کے خلاف سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے غداری کا مقدمہ چلانے کیلئے خصوصی ٹربیونل قائم کیا تھا۔ یہ مقدمہ ابھی جاری تھا کہ 5 جولائی 1977ءکو فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد ولی خان، سردار عطاءاللہ مینگل، خیربخش مری، افراسیاب خٹک اور نیپ کے دوسرے لیڈروں کو رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد ولی خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے نئی پارٹی قائم کی۔ ایم کیو ایم کے الطاف حسین نے فوجی قیادت کے خلاف بیان پر معذرت کرلی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کا شوق پورا کرلیا جائے۔ پاکستان کے آئین کے تحت افواج اور عدلیہ کی توہین کرنے اور اسے بدنام کرنے پر غدار ی کا مقدمہ چلایا جاسکتا ہے لیکن سیاسی اور قانونی حلقوں کا خیال ہے کہ بات شاید اس حد تک نہ جائے کہ ایم کیو ایم پرپابندی عائد کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھایا جائے۔ فی الحال معاملہ ایم کیو ایم کی مذمت تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
نیپ/ پابندی