ملک بھر میں این جی اوز کی چھان بین، قومی مفاد کیخلاف کام پر کالعدم قرار دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (سجاد ترین/ خبرنگار خصوصی) آزاد کشمیر سمیت ملک کے تمام بڑے چھوٹے شہروں میں کام کرنیوالی این جی اوز کی سرگرمیوں اور مالی معاملات کی چھان بین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ تمام این جی اوز کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائیگا کہ جو این جی اوز پاکستان میں کام کر رہی ہیں اس سے معاشرے اور ملک کو کیا فائدہ ہو رہا ہے، انکا ایجنڈا کیا ہے اور انکو ملنے والی مالی امداد کس طرح خرچ کی جا رہی ہے۔ ان این جی اوز میں کام کرنیوالے افراد کو کس طرح بھرتی کیا جاتا ہے اور ان سے کیا کام لیا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان میں کام کرنیوالی مقتدر این جی اوز کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ملک کے مفادات کیخلاف کام کر رہی ہیں اور تحقیقات کے بعد اگر ثابت ہوگیا تو ان این جی اوز کو کالعدم قرار دیدیا جائیگا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملکی قانون کے مطابق گوشوارے جمع نہ کرانیوالی این جی اوز کو بھی کالعدم قرار دیدیا جائیگا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک میں کام کرنیوالی این جی اوز اپنے مالی مفاد کے لئے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں، خفیہ اداروں کو ہدایت کردی گئی ہے کہ تمام این جی اوز کی تمام سرگرمیوں کے بارے میں جامع رپورٹ دی جائے۔ اس رپورٹ کے موصول ہونے کے بعد این جی اوز کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا جائیگا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں کام کرنیوالی این جی اوز کے بارے بھی یہ خدشہ پایا جا رہا ہے کہ ان میں شامل کچھ این جی اوز ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ این جی اوز کے افراد کے بیرون ملک دوروں اور جن لوگوں سے ان این جی اوز کے لوگ بیرون ملک ملاقاتیں کرتے ہیں انکے پاکستان کے بارے میں کیا عزائم ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض این جی اوز کے دفتر میں وزارت داخلہ اور خارجہ کے افراد بھی پارٹ ٹائم ملازمت کر رہے ہیں۔ ان افراد کے ذریعے این جی اوز والے ملکی معاملات کے بارے میں اہم معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
این جی اوز