مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں‘ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے: وفاقی وزرا

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں‘ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے: وفاقی وزرا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت اس علاقہ کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ ترجمان نے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کو رد کردیا کہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ بھارت ہی ہے جس نے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کیلئے بھارت نے 7 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں جو کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت وہاں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ ترجمان نے یاد دلایا کہ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں متعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی طرف سے 8 جون کو گلگت بلتستان کے انتخابات پر تنقید پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے جس کا مقصد کشمیر پر اسکے ناجائز قبضہ سے توجہ ہٹانا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکار کے باعث اس تنازعہ نے طول پکڑا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان سمیت تمام کشمیری ریاست بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اﷲ نے یاد دلایا ہے کہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری ہی سے ممکن ہے۔ دریں اثناء بھارت میں پاکستانی سفیر عبدالباسط نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ چودھری نثار سے ملاقات کی۔ عبدالباسط نے دونوں وفاقی وزراء کو پاک بھارت تعلقات کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزیر دفاع اور وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان بھارتی بیانات سے گھبرانے والا نہیں ۔ بھارت امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔ بھارت مایوسی اور پریشانی میں پاکستان مخالف بیانات دے رہا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔ ایک انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، ہندوستان دہشتگردوں کی سرپرستی کررہا ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،کشمیر بنے گا پاکستان۔ اس میں کوئی شک نہیں کشمیر بنیادی مسئلہ ہے۔ گزشتہ سال وزیراعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ موجودہ حکومت نے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔ بھارتی افواج کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرتی ہیں، کشمیر میں پاکستان کا قومی پرچم لہرایا جانا اور قومی ترانہ پڑھایا جانا کشمیریوں کی پاکستان سے وابستگی کا اظہار ہے۔ بلوچستان میں نام نہاد لیڈر بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں اور انہیںمالی معاونت دی جاتی ہے۔ پاک فوج نے ایک سال سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب بھارت نے جان بوجھ کر پاکستانی سرحد پر کشیدگی بڑھا دی ہے تاکہ پاک فوج کی توجہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ سے ہٹ جائے۔ خواجہ آصف نے کہا میڈیا پر کبھی کشمیر کے حوالے سے توقعات کے مطابق کوریج نہیں دی جا رہی۔ ہماری ہمسایوں کیلئے بھائی چارے اور اچھے تعلقات کی خواہش آج بھی موجود ہے لیکن اگر ہمسائے ایسی زبان بولتے رہیں گے تو انہیں اسی زبان میں جواب دیں گے۔ کشمیری اپنی جدوجہد پھر سے دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ بی جے پی کو پاکستان کیا مسلمان بھی منظور نہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو روکنے والے شکست سے دوچار ہونگے اور پوری دنیا پر سے انکے چہروں سے نقاب بھی اٹھ جائیگا۔ بھارت راہداری منصوبہ کو روکنے کی بات کرکے دنیا کے سامنے رسوا ہو گیا ہے۔