تحریک انصاف شفاف الیکشن کیلئے حکومتی مشینری استعمال نہ کرسکی

اسلام آباد (عزیز علوی) پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں شریک اقتدار اور اپوزیشن دھڑوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے بعد تشویش میںگھر گئی ہے خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے الیکشن میں ہارنے والے امیدوار بھی اپنے ساتھ دھاندلی کی شکایات اور ووٹوں کی پرچیوں کو فائلوں میں لگائے سینٹرل سیکرٹریٹ پہنچ گئے عمران خان نے اس صورتحال میں اپنے شکست کھانے والے امیدواروں کی بات سننے اوران کے کیس الیکشن کمیشن میں دینے کیلئے کمیٹی بنا دی خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں صوبائی حکومت کے اپنی مشینری کو فعال نہ کئے جانے سے پی ٹی آئی شدید تنقید کی زد میں گھری ہوئی ہے جبکہ چیئرمین عمران خان نے اس صورتحال میں یہ بیان دے کرکہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو بیشک دوبارہ بلدیاتی الیکشن کروا لیں مخالفین کے الزامات سے جان چھڑاتے ہوئے گیند مخالفین کو کورٹ میں ڈال دی لیکن اس سارے عمل میں بلدیاتی نظام سے بڑی تبدیلی لانے کیلئے پی ٹی آئی کا وہ خواب بھی چکنا چور ہونے کا اندیشہ ہے جسے عمران خان اقتدار کو نچلی سطح پر لے جانے سے تعبیر کرتے تھے پی ٹی آئی ایک طرف جوڈیشل کمیشن میں وفاقی حکومت کو دھاندلی کی پیداوار قرار دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن دوسری جانب پی ٹی آئی اپنے زیر اقتدار صوبے میں بلدیاتی الیکشن شفاف کرانے میں حکومتی مشینری استعمال نہ کرسکی لیکن سارا ملبہ پولیس پر ڈالنے کیلئے مخالف دھڑے بھی ایک ہوگئے ہیں جبکہ چیئرمین عمران خان کا دوٹوک موقف ہے کہ کے پی کے پولیس الیکشن میں غیر جانبدار رہی جس پر انتخابی بد انتظامی کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ الیکشن میں مشینری کا استعمال صوبائی حکومت کے بس میں نہیں تھا۔