بیلٹ پیپرز کے لئے آر اوز کی کوئی ڈیمانڈ چیک نہیں کی، جو آتی دستخط کر دیتا تھا: سابق جوائنٹ الیکشن کمشنر پنجاب

بیلٹ پیپرز کے لئے آر اوز کی کوئی ڈیمانڈ چیک نہیں کی، جو آتی دستخط کر دیتا تھا: سابق جوائنٹ الیکشن کمشنر پنجاب

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمشن نے مزید 6 گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئے ہیں کمشن نے پیر کو سابق ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمشن شیرافگن کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے طلب کر لیا ہے ،کمشن نے قرار دیا ہے کہ آئندہ ہفتے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے معاملہ نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل تین رکنی انکوائری کمشن نے مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے بارے میں سماعت کی تو سابق جوائنٹ پراونشل الیکشن کمشنر پنجاب خلیق الرحمن ، اسلام آباد پرنٹنگ پریس کے ڈپٹی منیجر محمد سلیمان ،ڈپٹی منیجر لیاقت علی، ایڈیشل ریجنل الیکشن کمشنر سرگودھا مجاہد حسین ، الیکشن کمشنر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عرفان اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سیکشن محمد سعید اور سکیورٹی پرنٹنگ پریس کے جنرل منیجر سیلز نوید خواجہ نے کمیشن کے روبرو اپنے بیانات ریکارڈ کرائے، تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ ،مسلم لیگ ن کے وکیل شاہد حامد اور الیکشن کمشن کے وکیل سلیمان اکرم راجہ نے گواہوں پر جرح کی، سابق جوائنٹ الیکشن کمشنر پنجاب خلیق الرحمن کمیشن کے روبرو پیش ہوئے انہوں نے کمشن کو بتایا کہ 20اپریل تک بیلٹ پیپرز رجسٹرڈ ووٹوں کے مطابق چھاپے گئے تھے 26 اپریل کو آر او نے پولنگ سکیم فائنل کی ہماری بنائی گئی بیلٹ پیپرز کی تعداد اور آر او کی تعداد میں کچھ زیادہ فرق نہیں تھا مجھے این اے154 کی اضافی ڈیمانڈ کا علم نہیں تھا یہ باتیں مجھے میڈیا کے توسط سے معلوم ہوئی پرنٹننگ پریس اسلام آباد کے ڈپٹی مینیجر محمد سلمان نے کمشن کو بتایا کہ پرنٹنگ کے دوران ڈیمانڈ سے زائد بیلٹ پیپرز کو جلا کر تلف کر دیا جاتا تھا، اس حوالے سے کمیٹی بنائی گئی تھی جس میںفوج کے نمائندے بھی شامل تھے ان کی نگرانی میں ویسٹ بیلٹ پیپرز جلائے گئے انہیں پریس سے باہر نہیں لایا گیا تھا، پرنٹنگ پریس اڑھائی فیصد زائد بیلٹ پیپرز چھاپتی ہے لیکن متعلقہ حلقوں کو ڈیمانڈ کے مطابق ہی بیلٹ پیپرز بھیجے جاتے ہیں، الیکشن کمشن نے نمبرنگ اور بائنڈنگ کیلئے بھیجے گئے افراد میں سے 34 افراد کی خدمات حاصل کی گئی تھیں انہیں کو دس مئی کو فارغ کردیا گیا تھا۔ سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے جے ایم سیلز نوید خواجہ کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقہ کے حوالے غیرمصدقہ دستاویزات پیش کرنے پرکمیشن نے ان کوسننے سے ا نکار کر دیا ان کو ہدایت کی کہ جس فرد نے رپورٹ تیارکی ہے انہیںکمشن میں پیش کیاجائے، ڈپٹی منیجر پرنٹنگ پریس لیاقت علی، ریجنل الیکشن کمشنر سرگودھا مجاہد حسین ڈپٹی ڈائریکٹر پرنٹنگ پریس محمد سعید اور الیکشن آفیسر محمد عرفان نے بھی بیان ریکارڈ کرائے ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اگلے ہفتے سے دوبارہ سماعت کریں گے اور کوشش کریں گے کہ کارروائی اگلے ہفتے ختم کر لی جائے کمشن نے آئندہ ہفتے تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنی موجودگی ضروری بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔ خلیق الرحمن نے مختلف سوالوں کے جواب میں کہاکہ بیلٹ پیپرزچھاپنے کی تین فہرستیں بنائی گئی تھیں، پہلی فہرست رجسٹرڈ ووٹرز کے مطابق 20 اپریل کو، دوسری درستگی کی بنیاد پر 21 اپریل کو جبکہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے مطلوبہ اعدادوشمار آنے کے بعد 26 اپریل کو ختمی فہرست تیارکی گئی تھی۔ پرنٹنگ پریس کو بیلٹ پیپرزکے حوالے سے تمام ہدایات الیکشن کمیشن سے ملتی رہیں اوربیلٹ پیپرز بعد میں فوج کی نگرانی میں متعلقہ آراوزکو کو بھجوائے جاتے رہے۔ اس عمل سے الیکشن کمشن اور وزارت خزانہ کوبھی اگاہ کیا جاتا رہا۔ محمد سلیمان نے بتایاکہ بیلٹ پیپرزکی چھپائی کاکام فوج کی نگرانی میں کیاگیا، چھپائی کے دوران دوسے اڑھائی فیصد بیلٹ اضافی چھپوائے گئے جو ضائع شدہ بیلٹ پیپرز کی جگہ پراستعمال کیلئے چھاپے جاتے تھے تاہم بچ جانے والے بیلٹ پیپرز کو بعدازاں جلا دیا جاتا تھا، الیکشن کمشن نے نمبرنگ اور بائنڈنگ کیلئے بھیجے گئے افراد میں سے 34 افراد کی خدمات حاصل کی تھیں۔ نوید خواجہ کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقہ 154کے حوالے غیرمصدقہ دستاویزات پیش کرنے پرکمشن نے ان کوسننے سے انکارکردیا اور ان کو ہدایت کی کہ جس فرد نے رپورٹ تیارکی ہے انہیںکمشن میں پیش کیا جائے۔ حفیظ پیرزادہ نے سابق جوائنٹ الیکشن کمشنر پنجاب خلیق الرحمان سے استفار کیا کہ ایک حلقے سے آپ کو آر اوکی طرف سے ایک لاکھ بیس ہزار ایکسٹرا بیلٹ پیپرز کی ڈیمانڈ آئی تھی کیا آپ کو معلوم تھا۔ خلیق الرحمان نے بتایا کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ سلمان اکرم راجہ نے پوچھا کہ 2013ء کے انتخابات میں تین لسٹیں ایسی ہیں جن پر آپ کے دستخط ہیں ان پر الگ الگ دستخط کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ اس پر خلیق الرحمان نے کہا کہ بیس اپریل کو جاری کی گئی لسٹ رجسٹرڈ ووٹر کی تھی اکیس اپریل کو وہی لسٹ درست کرکے دوبارہ جاری کی گئی چھبیس اپریل کو لسٹ پولنگ سکیم فائنل ہونے کے بعد جاری کی گئی۔ ان تینوں لسٹوں میں بہت مماثلت تھی چھبیس اپریل کو لسٹ صرف اس لئے جاری کی گئی کہ کچھ لوگوں کو ان پر تحفظات تھے سلمان اکرم راجہ نے پوچھا کہ الیکشن کمشن میں آر اوز کو فارمولا دیا تھا۔ یہ الیکشن سکیم اپلائی کی گئی اس پر خلیق الرحمان نے کہا کہ ہاں۔ سلمان اکرم راجہ نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ پنجاب میں دو قسم کے پولنگ سٹیشن بنائے گئے ایک جن میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ الگ پولنگ بوتھ تھے اور دوسرے جن میں خواتین اور مردوں کیلئے ایک ہی جگہ پولنگ بوتھ تھے اس پر خلیق الرحمان نے ہاں میں جواب دیا۔ سلمان اکرم راجہ نے خلیق الرحمان سے کچھ دیگر سوال کئے جن پر جسٹس اعجاز افضل نے ان کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ ایسے سوالات نہ کریں جن کے پاس آپ کے پاس ثبوت نہیں۔ پیرزادہ نے پوچھا کہ آپ کو بیلٹ پیپرز کیلئے آر اوز کی ڈیمانڈ آئی تھی تو کیا آپ نے اس کا جائزہ لیا تھا یا بغیر جائزہ لئے آپ نے وہ بیلٹ پیپر چھپوائے۔ خلیق الرحمان نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر کسی ڈیمانڈ کو چیک نہیں کیا جو ڈیمانڈ آتی تھی میں وہ بغیر چیک کئے دستخط کر دیتا۔ الیکشن کمشن کو بھیج دیتا تھا۔ پیرزادہ نے پوچھا کہ جب آپ نے خط لکھا اور الیکشن کمشن کو بتایا کہ اتنے بیلٹ پیپرز چھاپنے ہیں تو یہ بھی آپ نے آفس کے کہنے پر کیا تھا تو خلیق الرحمان نے بتایا ہاں یہ آفس کی معلومات پر خط لکھا گیا تھا۔ پیرزادہ نے پوچھا کہ الیکشن کمشن کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی تھیں کیا آپ نے وہ ہدیات آر اوز تک پہنچائی تھی اس پر خلیق الرحمان نے کہا کہ مجھے یہ یاد نہیں پڑتا۔ پیرزادہ نے پوچھا کہ کیا بیلٹ پیپر کی ڈیلیوری آپ نے کی تھی تو بتایا گیا کہ نہیں میں نے ڈیلیوری نہیں کی پیرزادہ نے پوچھا کہ کیا پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن پریس سے کبھی آپ کی ملاقات ہوئی یا انہوں نے کبھی آپ کو بتایا کہ بیلٹ پیپر چھپ رہے ہیں۔ خلیق الرحمان نے بتایا کہ پریس ہمیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ بھیجتا تھا ہم وہی رپورٹ الیکشن کمشن کو بھیج دیتے تھے۔ پیرزادہ نے سوال کیا کہ کیا آپ بیلٹ پیپر کی چھپائی سے مطمئن تھے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ غیر متعلقہ سوال نہ کریں۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے خلیق الرحمان کو بارہا غیر ضروری وضاحتیں دینے پر متنبہ کیا۔