بیشتر اہداف پورے نہیں ہوسکے: نیا وفاقی بجٹ کل پیش کیا جائےگا

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ نمائندہ خصوصی+ اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ مالی سال کا اقتصادی جائزہ آج پیش کریں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اقتصادی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ بیشتر اہداف پورے نہیں کئے جاسکے۔ وزیر خزانہ اگلے مالی سال کا بجٹ کل جمعہ کو پیش کریں گے۔ اگلے مالی سال کے بجٹ حجم 42 کھرب 72 ارب روپے ہوگا۔ محصولات کا ہدف 31 کھرب، قرضوں کے لیے 13 کھرب ہوں گے۔ ترقیاتی بجٹ 1500 ارب روپے کا منظور ہو گا جب کہ مجموعی ترقی کی شرح 5.5 فیصد رکھی گئی ہے۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق معیشت کے اہم سیکٹرز جن میں زراعت‘ سروسز اور صنعتیں شامل ہیں کے گروتھ ریٹ حاصل نہیں کئے جا سکے جبکہ مجموعی جی ڈی پی گروتھ ریٹ بھی حاصل نہیں ہوسکا۔ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہوگا۔ بجٹ پیش ہونے سے قبل کابینہ کے خصوصی اجلاس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائیگی۔ اے پی پی کے مطابق توقع ہے کہ نیشنل انکم سپورٹ پروگرام کے لئے مختص رقم میں اضافہ کیا جائیگا، بجٹ میں نظم و نسق کو بہتر بنانے، محصولات میں اضافے، سماجی شعبے کی ترقی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافے کےلئے مختلف اقدامات بھی تجویز کئے جائیں گے۔ ترقیاتی بجٹ میں وفاق کا حصہ 700 ارب روپے اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کا حصہ 814 ارب روپے ہو گا۔ زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.9 فیصد، مینوفیکچرنگ کے شعبے کی ترقی کا ہدف 6.1 فیصد اور برآمدات میں اضافے کا ہدف 25 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکسٹائل شعبہ پر 5 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔
بجٹ