این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے : وزیراعظم نے اسحاق ڈار کو ذمہ داری سونپ دی

این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے : وزیراعظم نے اسحاق ڈار کو ذمہ داری سونپ دی

اسلام آباد (شفاقت علی/دی نیشن رپورٹ) وزیراعظم نواز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو این ایف سی ایوارڈ پر بجٹ کے فوری بعد اتفاق رائے پیدا کرنے کا ٹاسک دیدیا ہے۔ آئینی طور پر اس حوالے سے کوئی پیچیدگی نہیں۔ موجودہ ایوارڈ ہی مزید آگے چل سکتا ہے اگر صوبوں میں اس حوالے سے کوئی فارمولہ طے پا جائے لیکن حکومت اس حوالے سے تمام سیاسی پہلوؤں پر غور کر رہی ہے اور وزیراعظم چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کو جلدازجلد حل کر لیا جائے۔ یہ بات دی نیشن کو وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے ایک قریبی ذرائع نے بتائی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں میں محاصل کی تقسیم ہوتی ہے جو سالانہ طے کی جاتی ہیں۔ ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2004ء میں پیپلزپارٹی کے دور میں طے پایا تھا جس کے تحت پہلے برس میں صوبوں کو 227 ارب حاصل ہوئے پھر اس کو 550 ارب تک بڑھایا گیا جسے بعد میں 850 ارب اور پھر 1250 ارب تک بڑھایا جانا تھا۔ اسی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو زراعت، جائیداد اور سروسز پر ٹیکس بڑھانے کا اختیار دیا گیا تھا جس کے بدلے میں صوبوں کو اپنی آمدن کو بڑھانا تھا۔ اس سلسلے میں 18ویں ترمیم بھی کی گئی۔ دی نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنما سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا ہے کہ ہمارا اس بات پر اختلاف ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی طرف سے آبادی کی بنیاد پر تقسیم کی حمایت اور دیگر معاملات جن میں رقبے بھی شامل ہے، کو نظرانداز کرنا تعجب کی بات ہے جبکہ ایک وقت میں پنجاب اس بات کا حامی تھا، جب مشرقی پاکستان ہمارا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب فنڈز کی تقسیم ضروریات کی بنیاد پر کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ بلوچستان میں بدامنی ہے کیونکہ وہاں پنجاب کی طرح وسائل نہیں ہیں۔ وفاق کو اس بات کو خود سوچنا چاہئے۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چھوٹے صوبوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ پیپلزپارٹی اس حوالے سے ایوارڈ کی تقسیم کے بنیادی فارمولے کو تبدیل کرنے کی حمایت کرتی ہے۔ چھوٹے صوبوں کو ریونیو دینے پر اس کا فائدہ بھی ہونا چاہئے۔ بلوچستان، سندھ اور خیر پی کے کے تحفظات کو دور کیا جانا چاہئے۔ حکومت کو اس بات کی امید ہے کہ مسئلہ کو حل کر لیا جائیگا اور اس سلسلے میں 2015ء کے آخر تک معاہدہ طے پا جائے گا۔