اصل دھاندلی خیبر پی کے میں ہوئی، پی ٹی آئی عوام سے معافی مانگے: لیگی رہنما

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف الیکشن 2013ء میں دھاندلی کے دعووں کے باوجود کوئی ثبوت کمشن کے سامنے پیش نہیں کرسکی، تحریک انصاف ہر چیز کا الزام دوسروں پر ڈالتی ہے، عمران خان ہرصورت اقتدار چاہتے ہیں، دھاندلی عام انتخابات میں نہیں خیبرپی کے کے بلدیاتی انتخابات میں ہوئی ہے جہاں بندوق کی نوک پر لوگوں سے مخالف امیدواروں کو ووٹ ڈالنے سے روکاگیا اور صرف اپنے لوگوں کے ووٹ ڈلوائے گئے۔ تحریک انصاف ڈرامہ بازی بندکرکے مسلسل عوام کوورغلانے پرعوام سے معافی مانگے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان اور طلال چودھری نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے کبھی دھاندلی کی سیاست کی نہ ہم ایسی سوچ رکھتے ہیں، جس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ خیبرپی کے میں مسلم لیگی کارکنوں نے بدترین دھاندلی کے باوجود خیبرپی کے میں تحریک انصاف کا بھرپور مقابلہ کیا، بہتر نتائج حاصل کئے جس کا ثبوت شانگلہ، پشاور اور ہزارہ ڈویژن میں ہماری بھرپورکامیابی ہے۔ اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ خیبر پی کے کے بلدیاتی الیکشن میں منظم دھاندلی سے پوری قوم آگاہ ہو چکی ہے جس کیخلاف عوام احتجاج کررہے ہیں، میڈیا نے بھی سب کچھ آشکار کر دیا ہے، دھاندلی کا الزام لگانے والے سوچیں کہ ہم الیکشن کے دوران حکومت میں تو نہیں تھے کہ دھاندلی کرتے لیکن جو لوگ دھاندلی کرنا چاہتے تھے انہوں نے خیبرپی کے میں دھاندلی کر کے دکھا دی، اپنے لوگوں کو بندوق کی نوک پر کامیاب کرانے کی کوشش کی۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے تھے لیکن کمشن میں پیش کئے جانے والے گواہوں نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔کمشن کے سامنے صرف ایک بات ثابت ہو گئی ہے کہ کسی ثبوت کے بغیر الزام لگانے والے جھوٹے ثابت ہو گئے ہیں عوام کے سامنے ان کا پول کھل گیا ہے، پہلے انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار حسین کو ملوث کرنے کی کوشش کی جو انتہا ہے۔ انہوں نے سابق چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم پر بھی الزامات لگائے، ہم حیران ہیں کہ آخر عوام کے سامنے وہ اس قدر جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔ طلال چودھری نے کہا کہ عمران خان نے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے بعد دوبارہ انتخابات کرانے کی جو بات کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اعتراف جرم کر رہے ہیں۔