پاکستان اور امریکہ کے درمیان مزید انٹیلی جنس وفود کے تبادلے ہونگے

پاکستان اور امریکہ کے درمیان مزید انٹیلی جنس وفود کے تبادلے ہونگے

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد دونوں ملکوں کے انٹیلی جنس اداروں کے مابین مزید اعلیٰ افسروں اور وفود کے تبادلے ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ڈی جی آئی ایس آئی کے بعض نائبین واشنگٹن جا رہے ہیں جس کے بعد امریکی حکام اسلام آباد آئیں گے۔اس کے علاوہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے دورہ پاکستان کی تجویز بدستور مﺅثر ہے۔ ایک مستند ذریعے کے مطابق اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ماضی کے تعاون اور تعلقات کا اعادہ شاید نہ ہو سکے لیکن اب غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں، بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی بنیاد پڑ رہی ہے، فوجی حکام کے تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے اور سٹریٹجک ڈائیلاگ کی شکل میں سفارتی و سیاسی سطح پر بھی مراسم میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ اس ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات بھی طے پانے کا قوی امکان ہے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق مذکورہ بالا پاکستانی حکام کے دورہ واشنگٹن کے دوران جہاں باہمی انٹیلی جنس تعاون بڑھانے کے مواقع پر بات ہو گی وہیں افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر کارروائیوں کی سرپرستی اور خصوصاً بلوچستان میں مداخلت بھی گفتگو کے اہم موضوعات ہوں گے۔