رمشا کیس: امام مسجد پر بھی توہین مذہب کا الزام، 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

رمشا کیس: امام مسجد پر بھی توہین مذہب کا الزام، 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

اسلام آباد (وقائع نگار + نیٹ نیوز + بی بی سی + نوائے وقت رپورٹ) عدالت نے مقدس اوراق جلانے کے معاملے میں رمشا نامی عیسائی بچی کے خلاف غلط شواہد پیش کرنے اور اس سلسلے میں توہینِ مذہب کرنے کے الزام میں گرفتار امام مسجد کو چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق خالد جدون پر لگائے گئے الزامات عدالت میں ثابت ہو جانے کی صورت میں رمشا باعزت بری ہو سکتی ہے۔ رمنا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او قاسم ضیاء نے بی بی سی کو بتایا کہ حافظ خالد جدون کا نام توہینِ مذہب کی دفعہ 295 ۔ بی کے تحت درج اسی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے جس کے تحت رمشا کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ حافظ خالد جدون پر رمشا کی گرفتاری کو ممکن بنانے کے لیے شواہد تبدیل کرنے کا الزام بھی ہے۔ گرفتاری کے بعد امام مسجد کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ حافظ خالد جدون کی گرفتاری انہی کی مسجد کے نائب امام اور منتظم ملک زبیر کی جانب سے مقامی مجسٹریٹ کے سامنے ہفتہ کو دیئے گئے بیانِ حلفی کے نتیجے میں عمل میں آئی جس میں ملک زبیر نے اس بات کی گواہی دی کہ حافظ جدون نے خود یہ مقدس اوراق رمشا کے گھر سے آنے والے کوڑے میں ڈالی تھیں۔ مقدمے کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بیان حلفی کے بعد مزید دو افراد نے بھی بیانِات حلفی دیئے ہیں جس میں اس الزام کو دہرایا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک حکومتی طبی بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ رمشا کی عمر چودہ برس ہے تاہم ذہنی لحاظ سے وہ اس سے کم عمر ہے۔ دریں اثنا پاکستانی علماء اور مشائخ کے نمائندہ گروپ آل پاکستان علماء کونسل نے ملزمہ مسیحی لڑکی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پاکستان کے لیے ’ٹیسٹ کیس‘ ہے اس میں کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے خالد جدون کو 16ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نصر من اللہ بلوچ نے امام مسجد کے ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، سماعت کے دوران ملزم خالد جدون نے عدالت کو بتایا کہ اسے رات 11 بجے مسجد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو مارا پیٹا گیا ہے، جس پر اس نے کہا کہ دوران حراست مجھ سے مار پیٹ نہیں کی گئی۔ ملزم کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر عدالت میں پیش کیا گیا تاہم وکیل کی استدعا کے بعد عدالتی حکم پر امام مسجد کی آنکھوں کی پٹی ہٹادی گئی۔ وکیل راو¿ عبدالرحیم نے بتایا کہ رمشا کیس میں صرف نماز کی کتاب جلانے کا ذکر ہے۔ خالد جدون کیس درج کرانے کے بعد پراسرار طور پر لا پتہ ہو گیا تھا جسے گزشتہ روز گرفتار کر لیا گیا۔ پیشی سے واپسی پر خالد جدون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حافظ زبیر نے ان پر غلط الزام لگایا انتظامیہ میرے خلاف سازش کر رہی ہے رمشا ہی صحیح ملزمہ ہے اور رہے گی۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد محمد اعظم توہین قرآن کی ملزمہ رمشا مسیح کیخلاف مقدمہ کی سماعت آج کرینگے۔ عدالت ملزمہ کے دوبارہ طبی معائنہ اور ضمانت کیلئے دی جانے والی درخواستوں کی سماعت کریگی۔