جبری گمشدگیوں میں ریاستی ایجنسیاں ملوث ہیں: انسانی حقوق کمشن

جبری گمشدگیوں میں ریاستی ایجنسیاں ملوث ہیں: انسانی حقوق کمشن

اسلام آباد (ثناءنیوز) پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ بغیر کسی الزام ، قانونی طریقے اور ریکارڈ کے تقاضے پورے کئے بغیر شہریوں کی گرفتاری اور انہیں تحویل میں رکھنے سے پیدا ہوا ہے اور ان میں ریاستی ایجنسیاں ملوث ہیں سال 2004 سے لے کر اب تک ہزاروں افراد غائب ہو چکے ہیں عدالت عظمی 2007 ءسے جبری گمشدہ افراد کے مقدمات کی سماعت کر رہی ہے اور کئی بار حکومتی اداروں کو متنبہ کر چکی ہے کہ وہ جبری گمشدگی کے شکار تمام افراد کو رہا کریں یا بازیاب کرائیں لیکن ابھی تک کئی کیسوں میں عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد اب ان افراد کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں اور سڑکوں کے کنارے سے ملنا حالات کو مزید خراب کر رہا ہے ۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق گزشتہ 10 سال سے جبری گمشدہ افراد کا مسئلہ پاکستان کے سنگین ترین بحران کا سبب بنا ہے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہے وہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ فی الفور اور ترجیحی بنیادوں پر غائب ہونے والے افراد کے خاندانوں کی تسلی کے مطابق حل کریں۔ پاکستان جبری گمشدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کی فوری توثیق کرے۔