آئین تمام قوانین کی ماں ہے‘ خلیفہ وقت سمیت کوئی قانون سے ماروا نہیں: چیف جسٹس

آئین تمام قوانین کی ماں ہے‘ خلیفہ وقت سمیت کوئی قانون سے ماروا نہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ قومی عدالتی پالیسی کے نفاذ کے بعد زیر التوا مقدمات کی تعداد غیر معمولی حد تک کم ہوئی ہے، آئین کو تمام قوانین کی ماں تصور کیا جاتا ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، معاشی، معاشرتی، سیاسی رتبے قانون کی نظر میں برابر ہیں، ججز کو وکلا، سائلین اور معاون اہلکاروں سے برتاﺅ کرتے ہوئے پرسکون رہنا اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے، اپنے غصے کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی آل پاکستان ایڈیشنل اینڈ سیشنز ججز کے سات روزہ تجدید نصاب کورس جس کا عنوان ”فوجداری سماعت مقدمہ“ اور قبولیت شہادت کی تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا جج کو ہمیشہ غیر جانبدار رہنا چاہئے اور اسے اپنے فرائض ایک امانت کے طور پر سرانجام دینے چاہئیں کیونکہ عدل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، متاثرہ افراد کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے خاص طور پر معاشرے کے غریب اور پسے ہوئے طبقے کو انصاف فراہم کرنے کیلئے سخت محنت کریں۔ انہوں نے مزید کہا چین کی کہاوت ہے کہ ”ترقی کا بہترین وقت اگر آج نہیں ہے تو دس سال پہلے تھا“ لہٰذا ہم بھی پیچھے نہیں رہے اور قانونی اصلاحاتی کمیشن کی 1969-70ءمیں شائع شدہ سفارشات کی بنیاد پر وفاقی قانونی اکیڈمی قائم کی گئی جس کے بعد صوبوں میں بھی اکیڈمیاں قائم ہوئیں۔ وفاقی قانونی اکیڈمی بہت جلد اعلیٰ تربیتی ادارے میں تبدیل ہو جائے گی اور فیز ٹو کی تعمیر مکمل ہونے پر اس کو وفاقی یونیورسٹی برائے قانون و ترویج انصاف کا درجہ دیدیا جائے گا۔ اس کا چارٹر متعلقہ اداروں کے ساتھ منظوری کے مراحل میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججز کو ہر صورت میں میزان کو برابر رکھنا ہے، مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے اور انصاف مہیا کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو نہ صرف حاصل شدہ قانونی تحفظات سے متعلق محتاط رہنا چاہئے بلکہ لازمی طور پر جائز سماعت مقدمہ کیلئے حال ہی میں شامل کردہ آرٹیکل 10(A) کے تحت عمل کرنا چاہئے۔ ہمارے عدالتی نظام میں فوجداری انصاف ایک اکائی نہیں ہے بلکہ اس میں پولیس، تفتیشی ادارے، استغاثہ، عدالتیں، جیل خانہ جات اور تادیبی ادارے شامل ہیں جو مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ پروفیسر اے بی ٹائسی نے قانون کی حکمرانی کے تین اصول بتائے ہیں، قانون توڑنے والے جس کا جرم عدالت میں ثابت ہو چکا ہو اس کے علاوہ کسی کو اس جرم میں سزا یا تکلیف نہیں دی جائے گی۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، قانون کی حکمرانی میں عدالتی فیصلوں کے نتائج سے شخصی حقوق بھی وضع ہوتے ہیں۔ انہوں نے ججز سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مقدمے کی سخت طویل سماعت کے بعد ایک جج کی کوششیں فیصلے پر لگی ہوتی ہیں فیصلہ معتبر، تجزیاتی شہادت پر مبنی اور غلطیوں سے پاک ہونا چاہئے تاکہ اسے ہارنے والا بھی قبول کرے۔ انہوں نے ججز سے مزید کہا کہ اکیڈمی کو بھی چاہئے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے نصاب میں ضروری تبدیلی کرتی رہا کرے اس سے قبل جب تقریب کا آغاز ہوا تو اس میں 18 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی جانب سے کورس کی تکمیل کے حوالے سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا گیا اور اس دوران اکیڈمی کے روح رواں نے چیف جسٹس کو اکیڈمی کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے دو سینئر جج صاحبان جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس ناصر الملک نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس نے کورس میں شرکت کرنے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔ سرٹیفکیٹ میں حاصل کرنے والوں میں مظفر آباد سے ایک،کوئٹہ سے دو، اسلام آباد سے ایک، لاہور سے چھ، پشاور سے چار جبکہ سندھ سے چار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز نے شرکت کی۔ آئی این پی اور اے پی اے کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں تمام عدالتیں قانون کی حکمرانی کی علمبردار ہیں۔ اسلامی اصول قانون میں خلیفہ وقت بھی قانون سے ماورا نہیں۔ جج کو کسی بھی مقدمے کی سماعت کے لئے فیئر ٹرائل کے آرٹیکل 10 اے پر عمل کرنا چاہئے۔ اسلامی اصول قانون میں قانون کی حکمرانی کا اصول ساتویں صدی میں وضع کیا گیا جس کے تحت کوئی شخص یا عہدہدار یہاں تک کہ خلیفہ وقت بھی قانون سے ماورا نہیں۔ مقدمے کی طویل اور سخت سماعت کے بعد جج کی کوشش ہونی چاہئے کہ فیصلہ شفاف اور ہارنے والے کے لئے بھی قابل قبول ہو۔