پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے وزارت تجارت آڈٹ معاملات کی رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری تجارت کی آڈٹ اعتراضات بارے میں لاعلمی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور ان سے وزارت تجارت کے آڈٹ کے معاملات 15 دن میں مکمل کر کے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ذیلی کمیٹی نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے حکام کو سروس رو لز کو جلد سے جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں وزارت پانی و بجلی اور وزارت تجارت کے 2003-04ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا کمیٹی کو بتایا گیا 2003-04کے آڈٹ اعتراضات پر 11سال گزرنے کے باوجود ایک بھی ڈیپارٹمنٹل کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا گیا جس پر رکن کمیٹی جنید انور چوہدری نے کہا کہ آڈٹ حکام کو چاہیے کہ پہلے سیکرٹری تجارت کو یہ سارا سکھائیں کہ انہیں بھی پتا چلے کہ آڈٹ اعتراض کیا ہوتا ہے، ہمارے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے، یہ قوم کے پیسوں کا معاملہ ہے، ہم انتخابی حلقوں میں کام چھوڑ کر کمیٹی کے اجلاسوں میں آ جاتے ہیں تو یہاں پتا چلتا ہے کہ صاحب نے تیاری ہی نہیں کی۔ ذیلی کمیٹی نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے متعلق آڈٹ پیرا کے حوالہ سے کہا کہ 4 سال سے وزارت تجارت کی ڈی اے سی نہیں ہوئی، ڈی اے سی نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اس چیز کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ سیکرٹری تجارت شہزاد ارباب نے کہا کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے متعلق جس آڈٹ پیرا کو کمیٹی میں پیش کیا گیا ہے اس کے حوالے سے ہمیں آڈٹ کی طرف سے پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے کنوینر نے کہا کہ ایسی پہلے روایت نہیں رہی، جب آڈٹ موصول ہو جاتا ہے تو پھر اس کے بعد اس طرح کا جواز پیش کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔