وزیر اعظم نے چین سے 5 ارب ڈالر کی 8 آبدوزیں خریدنے کی منظوری دیدی: معاہدہ پر دستخط چینی صدر کے دورہ پر ہونے کا امکان

 وزیر اعظم نے چین سے 5 ارب ڈالر کی 8 آبدوزیں خریدنے کی منظوری دیدی: معاہدہ پر دستخط چینی صدر کے دورہ پر ہونے کا امکان

اسلام آباد(رائٹر+ایجنسیاں)وزیراعظم محمد نوازشریف نے چین سے 8 ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں خریدنے کے معاہدے کی منظوری دیدی ہے۔ اس معاہدے پر چینی صدر ژی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دستخط ہونے کا امکان ہے تاہم ابھی یہ بات فائنل نہیں۔ یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں شریک ایک سرکاری اہلکار نے بتائی ہے۔ اس اجلاس میں بحریہ کے حکام نے بریفنگ دی تھی ان آبدوزوں کی مالیت 4سے 5 ارب ڈالر کی ہوگی اور یہ چین کی جانب سے پاکستان کو اب تک کی ہتھیاروں کی سب سے بڑی فروخت ہوگی۔ حکومت کے مطابق چینی صدر کا اسی ماہ دورہ متوقع ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کسی ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس سرکاری اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر رائٹر کو بتایا کہ وزیراعظم نے ان آبدوزوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے اور اس سے پاکستان کی دفاعی قوت مزید مستحکم ہوگی۔ اس اہلکار کے مطابق حتمی ہوم ورک ابھی زیر التوا ہے اس حوالے سے بعض حکام چین جارہے ہیں اور اس میں ابھی کئی سال لگیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان چین سے ایس۔20 اور یوآن کلاس ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں خریدنے کا خواہشمند ہے۔ ان تمام امور سے واقف پاک بحریہ کے سابق سینئر افسر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ یہ معاہدہ 4 سے 5 ارب ڈالر کا ہوسکتا ہے۔ ان آبدوزوں کے حوالے سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہواچن ینگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان دوستانہ ہمسایہ ممالک ہیں دونوں میں معمول کے مطابق فوجی تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ فوجی تعاون عالمی کنونشن اور معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں یہ چین کے دفاعی برآمدات کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اس سے قبل فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان چین سے آٹھ آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ کرنے کے قریب ہے جن کی مالیت چار سے پانچ بلین امریکی ڈالر ہوگی یہ چین کی اب تک کی سب سے بڑی ہتھیاروں کی فروخت ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی ڈیفنس کمیٹی میں ہونے والی سماعت کے حوالے سے بتایا گیا کہ خریداری کا فیصلہ ہوچکا ہے مگر ابھی تفصیلات طے نہیں کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چین کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ چین اور پاکستان دیرینہ اتحادی ہیں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی نوعیت کے معاہدے ہیں۔ چین ماضی میں بھی پاکستان کو بھاری ہتھیار فروخت کرتا رہا ہے۔